امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے برطانیہ کے بارے میں کہا ہے کہ اس کی ناکامی کا باعث اس کے رہنما بنے ہیں اور یہ سلسلہ پرانا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئے برطانوی وزیر اعظم اپنے حکومتی ڈھانچے میں ایسی تبدیلیاں لائیں گے جو برطانوی شہری اور ووٹر چاہتے ہیں۔ اور جن تبدیلیوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے برطانیہ پچھلے کئی عرصے سے بحرانی صورتحال سے دوچار ہے۔
'سنڈے ٹائمز' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا برطانیہ میں تیزی سے آنے والی یہ حکومتی تبدیلیاں ظاہر کرتی ہیں کہ برطانوی سیاست کے مسائل کس قدر گہرے ہیں۔
یاد رہے لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے برطانوی وزیر اعظم کیر سٹارمر نے پچھلے ماہ اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔ تاکہ ان کی جگہ نئی قیادت آگے آسکے۔ پچھلے دس برسوں کے دوران وہ ساتویں وزیراعظم ہیں جنہیں اپنی مدت پوری کیے بغیر گھر حکومت چھوڑنی پڑی ہے۔
قانون ساز اینڈی برنہام کے بارے میں توقع کی جا رہی ہے کہ وہ کیر سٹارمر کے بعد نئے وزیر اعظم ہوں گے۔ کہ ابھی تک وہی ایک اکیلے امیدوار کے طور پر نمایاں ہیں۔
امریکی نائب صدر نے کہا کہ میں نے پچھلے چند برسوں میں 6 برطانوی وزرائے اعظم کو اپنی مدت پوری کیے بغیر گھر جاتے دیکھا ہے۔ جو مجھے نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ برطانوی سیاست میں کچھ بڑی تھوڑ پھوڑ ہو چکی ہے اور اب وہاں کے لوگ حکومتی و سیاسی ڈھانچے میں کچھ بڑی تبدیلیاں چاہتے ہیں۔
میں توقع کرتا ہوں کہ اینڈی برنہام یا جو بھی وزیراعظم بنے گا وہ اپنی قوم کے لیے کچھ 'ڈیلیور' کرنے کی پوزیشن میں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو بھی وزیر اعظم بنے اسے برطانیہ کو واپس درست راستے پر لانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
امریکہ و برطانیہ کے تعلقات کے حوالے سے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا برطانیہ میرے لیے ایک متاثر کن جگہ ہے۔ یہاں کے لوگ امریکہ کے بعد دنیا بھر کے لوگوں سے زیادہ متاثر کرنے والے ہیں۔
یاد رہے نائب صدر جے ڈی وینس کی اہلیہ برطانیہ کی یونیورسٹی آف کیمبرج سے فارغ التحصیل ہیں۔ اس لیے نائب صدر جے ڈی وینس اکثر برطانیہ کے بارے میں اچھے ریمارکس کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔
دونوں ملکوں کے رہنما امریکہ و برطانیہ کے خصوصی تعلق کی اہمیت پر ہمیشہ زور دیتے رہے ہیں۔ اس کے باوجود کہ ایران کے خلاف جنگ اور غزہ و یوکرین کے حوالے سے دونوں کے درمیان رائے میں فرق رہا ہے۔ تاہم دو طرفہ تجارت و سرمایہ کاری کے حوالے سے امریکہ و برطانیہ قریبی اتحادی ہیں۔
پچھلے مہینے کیر سٹارمر کے استعفے کے بعد صدر ٹرمپ نے کیر سٹارمر کے بارے میں کہا کہ وہ بہت پیارے آدمی ہیں اور میرے دوستوں کی طرح ہیں۔ لیکن وہ امیگرنٹس اور توانائی کی پالیسی کے حوالے سے کامیاب نہیں ہو سکے۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ اچھے رہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس موقع پر نئے متوقع وزیر اعظم برطانیہ برنہام کے بارے میں کہا کہ وہ انتہائی لبرل آدمی ہیں۔
خیال رہے برنہام کے بارے میں یہ تصور کیا جاتا ہے کہ وہ اگلے وزیر اعظم ہوں گے لیکن وہ شمالی سمندروں سے آئل اور گیس کے حوالے سے امریکی حمایت نہیں کریں گے۔ اس سے قبل صدر ٹرمپ کیر سٹارمر سے بھی ایسا کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔
'سنڈے ٹائمز' کے ساتھ امریکی ائب صدر جے ڈی وینس نے اپنے انٹرویو میں کہا وہ برنہام کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے۔ البتہ یہ ضرور جانتے ہیں برطانیہ امریکہ کا ہمیشہ قریبی اتحادی رہے گا۔ برطانیہ کا جو بھی وزیراعظم بنے گا ہم اس کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ تاکہ ہم کامیابی کے لیے جو بھی کر سکتے ہیں وہ کریں۔