کل بدھ کو سورج خانۂ کعبہ کے عین اوپر ہوگا، قبلے کی درست سمت معلوم کرنے کا نادر موقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

بدھ کے روز مکہ مکرمہ کی فضاؤں میں سال کے نمایاں فلکیاتی مظاہر میں سے ایک رونما ہوگا، جب سورج عین خانۂ کعبہ کے اوپر ہوگا۔

یہ ایک ایسا منفرد لمحہ ہے، جس کے ذریعے دنیا بھر کے لاکھوں مسلمان کمپاس یا موبائل ایپس کے بغیر بھی انتہائی درستگی کے ساتھ قبلے کی سمت معلوم کر سکتے ہیں۔

جدہ فلکیاتی سوسائٹی کے سربراہ انجینئر ماجد ابو زاہرہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ تعامد بدھ کے روز مکہ مکرمہ کے وقت کے مطابق دوپہر 12 بج کر 26 منٹ اور 44 سیکنڈ پر ہوگا، جبکہ گرینچ کے وقت کے مطابق صبح 9 بج کر 26 منٹ اور 44 سیکنڈ ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت سورج افق سے تقریباً 89 درجے اور 56 منٹ کی بلندی پر ہوگا، جس کے باعث اس کی شعاعیں عملی طور پر عین زوال کے لمحے خانۂ کعبہ پر عموداً پڑیں گی۔

سورج خانۂ کعبہ کے عین اوپر کیوں آتا ہے؟

جدہ فلکیاتی سوسائٹی کے سربراہ انجینئر ماجد ابو زاہرہ نے بتایا کہ یہ فلکیاتی مظہر اس وقت رونما ہوتا ہے جب سورج اپنی سالانہ ظاہری حرکت کے دوران مکہ مکرمہ کے تقریباً 21اعشاریہ4 درجے شمالی عرضِ بلد پر پہنچتا ہے، جس کے نتیجے میں اس کی شعاعیں براہِ راست خانۂ کعبہ پر عموداً پڑتی ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ یہ مظہر ہر سال دو مرتبہ پیش آتا ہے۔ پہلی بار مئی کے آخری دنوں میں اور دوسری بار جولائی کے وسط میں، جبکہ زمین کی سورج کے گرد گردش کے باعث ہر سال اس کے وقت میں معمولی فرق آ سکتا ہے۔

قبلے کی سمت معلوم کرنے کا انتہائی درست طریقہ

انجینئر ماجد ابو زاہرہ نے کہا کہ سورج کا خانۂ کعبہ کے عین اوپر آنا قبلے کی سمت معلوم کرنے کے لیے فلکیاتی اعتبار سے سب سے زیادہ درست طریقوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ طریقہ انتہائی دقیق فلکیاتی حسابات پر مبنی ہے۔

قدیم زمانے میں علمائے میقات اور ماہرینِ فلکیات قطب نما اور جدید آلات کی ایجاد سے پہلے اسی کے ذریعے مساجد کے محرابوں کی سمت درست کیا کرتے تھے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ تعامد کے عین لمحے سورج کی سمت ہی خانۂ کعبہ کی سمت ہوتی ہے، بشرطیکہ متعلقہ مقام پر سورج افق کے اوپر موجود ہو۔ جبکہ کسی سیدھی کھڑی چیز کا سایہ قبلے کی سمت کے بالکل الٹ رخ کی نشاندہی کرتا ہے۔

اس فلکیاتی مظہر سے کیسے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے؟

انجینئر ماجد ابو زاہرہ کے مطابق اس فلکیاتی مظہر سے فائدہ اٹھانے کا طریقہ نہایت آسان ہے۔ تعامد کے مقررہ وقت سے پہلے کسی ہموار سطح پر ایک سیدھی لکڑی، چھڑی یا کوئی بھی عمودی جسم نصب کر دیں، پھر عین مقررہ لمحے سورج یا اس جسم کے سائے کی سمت کا مشاہدہ کریں۔

اس طریقے سے قبلے کی سمت انتہائی درستگی کے ساتھ معلوم یا اس کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس مظہر کی اہمیت مکہ مکرمہ سے دور واقع علاقوں، جیسے یورپ، شمالی و جنوبی امریکا، مشرقی ایشیا اور آسٹریلیا میں زیادہ ہوتی ہے، کیونکہ وہاں اس کے ذریعے قبلے کی سمت درست کرنے میں خاص مدد ملتی ہے۔ جبکہ مکہ کے قریب واقع شہروں میں اس مظہر سے زیادہ تر قبلے کی موجودہ سمت کی درستگی کی جانچ کی جاتی ہے۔

مسجد الحرام میں سائے تقریباً غائب ہو جاتے ہیں

انجینئر ماجد ابو زاہرہ نے بتایا کہ تعامد کے عین لمحے مسجد الحرام میں عمودی اشیاء کے سائے تقریباً ختم ہو جاتے ہیں، کیونکہ اس وقت سورج تقریباً سر کے بالکل اوپر ہوتا ہے۔

تاہم دنیا کے دیگر علاقوں میں سائے مختلف سمتوں میں پڑتے ہیں، جن سے قبلے کی سمت کی درست نشاندہی یا تصدیق کی جا سکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ فلکیاتی مظہر زمین کی کرویت سے متعلق فلکیاتی حسابات کا ایک عملی ثبوت بھی ہے، کیونکہ ایک ہی وقت میں مختلف مقامات پر سورج کی بلندی اور سائے کی سمت مختلف ہوتی ہے۔

اسی وجہ سے دنیا کے وسیع علاقوں میں اس مظہر سے قبلے کی سمت معلوم کرنے میں فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، البتہ ایسے مقامات جہاں اس وقت سورج افق کے نیچے ہو یا بادل سورج کو ڈھانپے ہوئے ہوں، وہاں اس طریقے سے استفادہ ممکن نہیں ہوتا۔

یہ ایک قدرتی فلکیاتی مظہر ہے، کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں

جدہ فلکیاتی سوسائٹی کے سربراہ انجینئر ماجد ابو زاہرہ نے زور دے کر کہا کہ سورج کا خانۂ کعبہ کے عین اوپر آنا ایک قدرتی فلکیاتی مظہر ہے، جو سورج کی ظاہری پوزیشن اور مکہ مکرمہ کے عرضِ بلد کے باہمی مطابقت کے باعث پیش آتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ خانۂ کعبہ زمین کے مرکز میں واقع ہے یا سورج صرف اسی کے اوپر عموداً آتا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ مدارِ سرطان اور مدارِ جدی کے درمیان واقع ہر مقام پر سال کے کسی نہ کسی وقت سورج عموداً آتا ہے، جب سورج اپنی سالانہ ظاہری حرکت کے دوران اس مقام کے عرضِ بلد پر پہنچتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ مظہر علمِ فلکیات اور اس کے عملی استعمال کے درمیان گہرے تعلق کو اجاگر کرتا ہے، اور یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ فلکیاتی حسابات نے صدیوں سے علمِ میقات اور قبلے کی درست سمت کے تعین میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ فلکیات سے دلچسپی رکھنے والوں کو ہر سال سورج کی حرکت سے وابستہ ایک اہم فلکیاتی مظہر کا مشاہدہ کرنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں