پاکستان کی مسلح افواج کےسربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ترکیہ میں صدر طیب ایردوآن سے ملاقات کی ہے۔ یہ ملاقات علاقے میں پیدا شدہ تازہ صورت حال اور پاک ترک دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے امور پر رہی۔ فیلڈ مارشل نے اپنے دورہ ترکیہ کے دورامن سینیئر فوجی حکام کے ساتھ بھی ملاقات کی ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج کے میڈیا ونگ کے مطابق یہ اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں منگل کے روز ہوئیں۔
ترکیہ ان دنوں فوجی حکام کی ملاقاتوں اور فوجی حکمت عملی کے موضوعات کے حوالے سے اہمیت اختیار کیے ہوئے ہے۔ اسی ماہ انقرہ میں دنیا کے سب سے بڑے فوجی اتحاد نیٹو ملکوں کی سربراہ کانفرنس منعقد ہوئی تھی۔
پاکستان اور ترکیہ کے درمیان حالیہ برسوں سے دفاعی شعبے میں شراکت داری میں کافی وسعت آئی ہے۔ ان میں بحری افواج کی سطح پر تعاون کے علاوہ، فوجی تربیت اور دفاعی پیداوار کے شعبے بطور خاص شامل رہے ہیں۔ پاکستان اور ترکیہ نے 2018 میں ایک غیر معمولی معاہدہ کیا ہے جس کے تحت ترک دفاعی کمپنی پاک بحریہ کے لیے چار بحری جہاز تیار کرنے اور ٹیکنالوجی منتقل کرنے کا طے کیا گیا۔
دونوں ملکوں کے درمیان باقاعدگی کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ تاکہ دوطرفہ فوجی و دفاعی تعاون بڑھایا جائے۔ علاوہ ازیں بغیر پائلٹ ڈرون طیارے میں بھی تعاون بڑھایا گیا۔ بعد ازاں دفاعی تعاون کو سہ فریقی کر دیا گیا اور سعودی عرب بھی اس کا حصہ بن گیا۔
آئی ایس پی آر کے جاری کردہ بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے صدر رجب طیب ایردوآن اور ترکیہ کے وزیر دفاع سے ملاقات کی ۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی اور علاقائی سلامتی کے امور زیر بحث آئے۔
نیز ترکیہ کے فوجی سربراہ نے بھی منگل کے روز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ساتھ ملاقات کی ہے۔ انہوں نے فیلڈ مارشل کو ان کی فوجی تعاون کے لیے کوششوں کے اعتراف کے سلسلے میں اعزازی شیلڈ بھی پیش کی۔
فیلڈ مارشل نے ترک بری فوج کے ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا اور کمانڈر جنرل متین توکل سے ملاقات کی۔ انہوں نے اس موقع پر کمال اتا ترک کی قبر پر پھولوں کی چادر ڈالی۔