کشیدگی میں نیا اضافہ، امریکی B-1 بمبار کے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مراکز پر حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی فوج نے منگل کے روز بی-1 (B-1) طویل فاصلے تک مار کرنے والے اسٹریٹجک بمبار طیارے کے ذریعے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ٹھکانوں پر حملے کیے۔

ایران کے ساتھ 12 روز قبل دوبارہ شروع ہونے والی جھڑپوں کے بعد یہ اپنی نوعیت کی پہلی کارروائی ہے۔

بی-1 بمبار طیارے کا استعمال امریکی فوجی مہم میں نمایاں شدت اور توسیع کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ یہ طیارہ دو ہزار پاؤنڈ وزنی 24 بم یا درجنوں کروز میزائل لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ کم بلندی پر آواز کی رفتار سے زیادہ تیزی سے پرواز کر سکتا ہے اور امریکی فضائیہ کے بمبار طیاروں میں سب سے زیادہ جنگی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب امریکی فوج خطے میں اپنی عسکری موجودگی مزید مضبوط کر رہی ہے، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ امریکی اور اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز میں اس حوالے سے اہم پیش رفت متوقع ہو سکتی ہے۔

برطانیہ میں موجود امریکی فضائی اڈے سے

امریکی خبر رساں ویب سائٹ ایکسیوس (Axios) کے مطابق بی-1 (B-1) اسٹریٹجک بمبار طیارہ برطانیہ میں قائم ایک امریکی فضائی اڈے سے روانہ ہوا۔

طیارے کی پرواز کو فضائی آمدورفت پر نظر رکھنے والی ویب سائٹس پر بھی ٹریک کیا گیا، تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے منگل کو کیے گئے حملوں سے متعلق اپنے سرکاری بیان میں اس طیارے کے استعمال کا کوئی ذکر نہیں کیا۔

سینٹکام نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی افواج نے ایران کے فوجی آپریشن مراکز، بحری صلاحیتوں، طیاروں کے ہینگرز، ڈرون ذخیرہ کرنے کی تنصیبات اور فوجی لاجسٹک انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا، تاکہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرہ بننے کی ایران کی صلاحیت کو کمزور کیا جا سکے۔

تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ بی-1 بمبار طیارے نے کن مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا، یا اس کی کارروائی حالیہ دنوں میں کیے گئے دیگر امریکی حملوں کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہوئی یا نہیں۔

انتہائی سخت حملے

امریکہ اس سے قبل بھی اس نوعیت کے بمبار طیاروں کو ''ایپک فیوری (Epic Fury)'' آپریشن کے دوران استعمال کر چکا ہے، جس میں ایران کے اندر میزائل اڈوں، کمانڈ مراکز، ہتھیاروں کے گوداموں اور فضائی دفاعی نظاموں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کی شام ریاست جارجیا میں ایک خطاب کے دوران کہا:انہیں بہت سخت حملوں کا سامنا ہے اور وہ ایک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن میرا خیال ہے کہ وہ ابھی تیار نہیں ہیں، کیونکہ جب بھی وہ کوئی معاہدہ کرتے ہیں تو اسے تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اس وقت تیار نہیں ہیں، لیکن بہت جلد تیار ہو جائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں