بیان 93 کی وجہ سے نوبل انعام جیتنے والے جرمن افراد کو سنگین الزامات کا سامنا
سارائیوو واقعے کے ایک ماہ بعد جس میں بوسنیائی سرب نسل کے ایک انتہا پسند گاورِیلو پرنسِپ (Gavrilo Princip) نے آسٹریا کے ولی عہد فرانز فردینینڈ اور ان کی اہلیہ صوفی کو قتل کیا تھا، آسٹریا،ہنگری سلطنت نے 28 جولائی 1914ء کو سربیا کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا۔
یہ اعلان مذاکرات کی ناکامی اور آسٹریا کے اس الزام کے بعد کیا گیا کہ سربیا نے تحقیقات کے دوران تعاون نہیں کیا۔
اس کے جواب میں روس نے آسٹریا کے خلاف جنگ کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ سربیا کی حمایت میں مداخلت کر رہا ہے۔
یہ اقدام روسی زار نکولس دوم کی خواہش کے مطابق تھا، جو اس سے قبل خود کو سلاوی قوموں کا محافظ قرار دے چکے تھے۔
روس کے جنگ میں شامل ہوتے ہی یورپ میں قائم اتحادوں کا نظام فعال ہوگیا اور آسٹریا،سربیا کا محدود تنازع ایک عالمی جنگ میں تبدیل ہوگیا۔
جنگ کے دوران جرمن سائنس دانوں نے اپنے ملک کی پالیسیوں کی حمایت کی اور شہنشاہ ولہلم دوم کی حکمت عملی کا دفاع کیا، جسے کئی غیر جانب دار ممالک کے خلاف جارحانہ قرار دیا جاتا تھا۔جنگ کے اختتام پر ان جرمن سائنس دانوں کے مؤقف کو شدید مذمت اور وسیع تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
بیلجیم پر حملہ
پہلی جنگِ عظیم کے آغاز پر جرمنی نے فرانسیسی فوج کے خلاف فوری اور فیصلہ کن فتح حاصل کرنے کا راستہ تلاش کیا۔ اسی مقصد کے لیے جرمن فوجی قیادت نے شلیفن منصوبہ (Schlieffen Plan) نافذ کرنے کا فیصلہ کیا، جسے جرمن جنرل الفریڈ فون شلیفن (Alfred von Schlieffen) نے کچھ عرصہ قبل تیار کیا تھا۔
اس منصوبے کے تحت جرمنی نے غیر جانب دار ممالک لکسمبرگ اور بیلجیم میں فوجی مداخلت کا فیصلہ کیا تاکہ ان کی سرزمین سے گزر کر فرانس پر حملہ کیا جا سکے اور جرمنی،فرانس سرحد پر موجود مضبوط دفاعی نظام سے بچا جا سکے۔
2 اگست 1914ء کو جرمن افواج نے لکسمبرگ میں فوجی کارروائی شروع کی۔ اس کے دو دن بعد جرمنی نے بیلجیم پر حملہ کر دیا، جس پر عالمی سطح پر شدید غم و غصہ پھیل گیا۔
1839ء کے معاہدے کے مطابق یورپی طاقتوں نے مستقبل کی جنگوں میں بیلجیم کی غیر جانب داری اور خودمختاری کے تحفظ کی ضمانت دی تھی۔
جرمنی کی جانب سے بیلجیم پر حملہ اس معاہدے کی خلاف ورزی سمجھا گیا، جس کے نتیجے میں برطانیہ نے جرمنی کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا۔
دوسری جانب بیلجیم کے عوام اور فوج نے سخت مزاحمت کی اور جرمن افواج کو پیچھے ہٹانے کے لیے کئی کارروائیاں شروع کیں۔
اس کے جواب میں جرمن فوج نے بیلجیم کے شہروں اور دیہات میں پھانسیوں، قتل و غارت اور تباہی کی کارروائیاں کیں۔
بیان 93
اپنے ملک کی جنگی کوششوں کی حمایت کے لیے متعدد جرمن سائنس دانوں، فلسفیوں، دانش وروں اور ڈاکٹروں نے ایک اعلامیے پر دستخط کیے، جسے ''بیانِ تینانوے'' یا ''متمدن دنیا کے نام اپیل'' کے نام سے جانا جاتا ہے۔
اس اعلامیے کو بیان 93 اس لیے کہا گیا کیونکہ اس پر دستخط کرنے والوں کی تعداد 93 افراد تھی۔ ان میں کئی ایسے افراد بھی شامل تھے جنہوں نے بعد میں نوبل انعام حاصل کیا، جن میں:
میکس پلانک (Max Planck) جنہیں 1918ء میں طبیعیات کا نوبل انعام ملا۔
ولہلم اوسٹ والڈ (Wilhelm Ostwald) جنہیں 1909ء میں کیمیا کا نوبل انعام ملا۔
رچرڈ ولشٹیٹر (Richard Willstätter) جنہیں 1915ء میں کیمیا کا نوبل انعام ملا۔
بیان 93 میں دستخط کنندگان نے مؤقف اختیار کیا کہ جرمنی دفاعی جنگ لڑ رہا ہے، اس پر بلاجواز حملہ کیا گیا اور اسے ایسی جنگ میں دھکیلا گیا جس میں وہ شامل ہونا نہیں چاہتا تھا۔
انہوں نے بیلجیم پر جرمن حملے کا دفاع کرتے ہوئے اسے ایک فوجی ضرورت قرار دیا اور بیلجیم کے شہریوں کے قتلِ عام کی خبروں کی تردید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جرمن فوج بین الاقوامی قوانین اور تہذیبی اصولوں کا احترام کرتی ہے۔
اعلامیے میں جرمن شہنشاہ ولہلم دوم کی پالیسیوں کا بھی دفاع کیا گیا اور برطانیہ اور فرانس کی جانب سے جرمنی کے خلاف چلائی جانے والی مبینہ پروپیگنڈا مہم اور اشتعال انگیزی کی سخت مذمت کی گئی۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ جرمن تہذیب اور ثقافت کو بڑے پیمانے پر حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
عالمی مذمت
بیانِ تینانوے نے عالمی سائنسی حلقوں میں غم و غصہ پیدا کر دیا، اگرچہ کئی جرمن سائنس دانوں نے اس پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
اس خدشے کے پیشِ نظر کہ یہ بیان عالمی رائے عامہ پر اثر انداز ہو سکتا ہے، فرانسیسی وزارتِ خارجہ نے پروپیگنڈا کے شعبے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی قائم کر دی۔
پہلی جنگِ عظیم کے اختتام پر کئی جرمن سائنس دانوں نے اپنا دفاع کرنا شروع کیا اور کہا کہ انہیں اس بیان کے اصل مواد کا علم نہیں تھا، جس پر انہوں نے دستخط کیے تھے۔
دوسری جانب فرانس کے وزیرِ اعظم جارج کلیمنسو (Georges Clemenceau) نے اس بیان کو جنگی جرم قرار دیا۔