248 شیر خوار خاموشی سے چل بسے، خطرناک بیماری سے سوڈان میں تشویش
شدید بلڈ پوائزننگ اسباب کی فہرست میں سب سے اوپر ہے
سوڈان میں سال 2026ء کی پہلی شش ماہی کے اشاریے ماؤں کی اموات میں کمی کی ایک مثبت خبر لائے ہیں تاہم دوسری طرف اعداد و شمار نے زچگی کے شعبوں کے اندر ایک اور المیہ کو بے نقاب کردیا ہے۔
یہ انکشاف ہوا ہے کہ اس دوران 248 نومولود اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ شدید بلڈ پوائزننگ اسباب کی فہرست میں سرِفہرست رہی۔ یہ اعداد و شمار ریاست کے صحت کے نظام کو درپیش چیلنجز کے حجم کی عکاسی کر رہے ہیں۔
خطرے کی گھنٹی
یہ اعداد و شمار ماؤں، بچوں اور نومولودوں کی اموات کی تحقیقات کے لیے منعقد شش ماہی اجلاس کی میز پر مضبوطی سے موجود تھے۔ یہ اجلاس دارالحکومت خرطوم سے تقریباً 410 کلومیٹر مشرق میں واقع ریاست القضارف کی وزارتِ صحت نے صحت کے شعبے کے شراکت داروں کے ساتھ منعقد کیا تھا۔ اجلاس میں یہ اعداد و شمار خطرے کی گھنٹی اور انسانی قیمت بڑھنے سے پہلے صحت کی مداخلتوں کو وسعت دینے کی فوری اپیل میں بدل گئے۔
ماؤں کی اموات میں کمی
ری پروڈکٹیو ہیلتھ پروگرام کی ششماہی رپورٹ نے گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں ماؤں کی اموات میں کمی کا انکشاف کیا۔ 27,149 زندہ پیدائشوں میں سے 47 اموات ریکارڈ کی گئیں۔ اس طرح فی 100,000 زندہ پیدائشوں پر 176 اموات کی شرح سامنے آئی۔ لیکن نومولودوں کے معاملے میں صورتحال زیادہ تاریک نظر آئی کیونکہ ریاست میں 248 اموات ریکارڈ کی گئیں اور رپورٹ نے ان میں سے زیادہ تر کو شدید بلڈ پوائزننگ کے ساتھ ساتھ دیگر صحت سے متعلق اسباب سے منسوب کیا۔ یہ ایک ایسا اشاریہ ہے جو نومولود بچوں کی دیکھ بھال کی خدمات کو اب بھی درپیش چیلنجز کا بتا رہا ہے۔
جانی نقصان سے بچانے کا منصوبہ
یہ اجلاس صرف اعداد و شمار کی پیشکش تک محدود نہیں تھا بلکہ اس نے اموات میں کمی کی راہ میں حائل خامیوں کو دور کرنے کے ایک منصوبے پر شراکت داروں کے ساتھ بحث کی۔ محفوظ ولادت کے لوازمات کی فراہمی، دیہی ہسپتالوں میں طبی عملے کی بقا کو یقینی بنانے کی حمایت، دائیوں کی تربیت ، ان کی اہلیت بڑھانے اور دور دراز علاقوں میں طبی خدمات کو تقویت دینے پر بات چیت کی گئی۔
بنیادی دیکھ بھال کی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر انسام احمد عثمان نے کہا کہ وزارت مائوں اور نومولودوں کی اموات کو کم کرنے کے مقصد سے متعدد اقدامات پر عمل پیرا ہے جن میں ہنگامی کیسز کی منتقلی کے لیے ایمبولینس ٹوک ٹوک پروگرام بھی شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ری پروڈکٹیو ہیلتھ سروسز کے لیے متحد معلومات کا مرکز قائم کیا گیا ہے جو خدمات تک تیزی سے رسائی اور ماؤں کو فراہم کی جانے والی دیکھ بھال کے معیار کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوں گے۔
شراکت داروں سے اپیل
سوڈان کی وزارتِ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر احمد الامین آدم نے صحت کے شعبے کے شراکت داروں سے اپیل کی کہ وہ محفوظ ولادت کے لوازمات فراہم کر کے، دور دراز علاقوں میں طبی عملے کے قیام کی حمایت کر کے اور مسلسل تربیتی پروگراموں کو وسعت دے کر ری پروڈکٹیو ہیلتھ سروسز کی مدد میں اپنے تعاون کو مضبوط کریں۔
انہوں نے کہا کہ خاص طور پر دائیوں کے لیے اور ماں اور بچے کی دیکھ بھال میں کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزارت مڈوائفری سکول کو دوبارہ کھولنے کے لیے تدابیر کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے کیونکہ اسے ایک ایسا اقدام سمجھا جاتا ہے جس پر صحت کے نظام کو اہل عملے سے مضبوط کرنے اور مائوں اور نومولودوں کی اموات میں کمی لانے کے ذریعے انحصار کیا جا رہا ہے۔
جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی
جہاں اشاریے ماؤں کی اموات میں کمی میں پیش رفت کی عکاسی کرتے ہیں، وہیں نومولودوں میں 248 اموات صحت کے منظر نامے میں سب سے نمایاں چیز ہے۔ یہ ایک ایسا عدد ہے جو صحت کے حکام اور ان کے شراکت داروں کے سامنے زندگی کے پہلے دنوں کو بچانے کی جنگ میں ایک بڑا چیلنج کھڑا کر رہا ہے۔
یہ چیلنج ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزارتِ صحت تصدیق کرتی ہے کہ شراکت داری کو وسعت دینا اور صحت کی دیکھ بھال کے خلا کو پر کرنا ان اموات کو کم کرنے کے امکانات کو بہتر بنانے کی کلید ہے۔