امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز واضح کیا ہے کہ واشنگٹن اب بھی ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کے لیے تیار ہے، اگر تہران نے امریکہ کے مطالبات پر عمل نہ کیا۔
فرانسیسی ٹی وی چینل LCI کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا: حملوں کا عارضی طور پر رک جانا اس بات کا مطلب نہیں کہ ہم پیچھے ہٹ گئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا:اگر ایران نے ہماری شرائط پوری نہ کیں تو ہم اب بھی اس کے خلاف وسیع فوجی حملہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ نے ہفتے کی رات گزشتہ دو ہفتوں میں پہلی بار ایران پر فضائی حملے نہیں کیے۔
واشنگٹن کی جانب سے اب تک اچانک اس فیصلے کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی کہ مسلسل 13 راتوں تک جاری رہنے والے بڑھتے ہوئے فضائی حملوں کا سلسلہ کیوں روک دیا گیا۔
یہ حملے عارضی معاہدہ ٹوٹنے کے بعد شروع ہوئے تھے اور آبنائے ہرمز میں جہازوں پر ایران کے حملوں کے جواب میں کیے جا رہے تھے۔
ہفتے کے روز ایسی کوئی اطلاعات بھی سامنے نہیں آئیں کہ ایران نے معمول کے مطابق خطے کے دیگر ممالک پر روزانہ کی بنیاد پر حملے کیے ہوں۔
امریکی ویب سائٹ ''ایکسیوس'' (Axios) نے دو باخبر ذرائع کے حوالے سے، جن کے نام ظاہر نہیں کیے گئے، رپورٹ کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز امریکی فوج کو ایران پر مزید نئے حملے نہ کرنے کی ہدایت دی۔
دوسری جانب، دو ہفتے قبل وہ عارضی جنگ بندی عملی طور پر ختم ہو گئی تھی، جس کا مقصد تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ کا خاتمہ تھا۔
اس کے بعد امریکہ نے جنوبی ایران میں متعدد اہداف پر حملے کیے، جنہیں آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے جہاز رانی میں رکاوٹ ڈالنے کا جواب قرار دیا گیا۔
گزشتہ چند دنوں کے دوران ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ وہ حملوں کا دائرہ بڑھا کر ایران کے بجلی گھروں، پلوں اور جزیرہ خارک تک پھیلا سکتے ہیں، جو ایران کی تیل برآمدات کا اہم مرکز ہے۔
انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا تھا کہ زیرِ زمین واقع ایک گہرے مقام، جسے ''کلہاڑی کا پہاڑ ''کہا جاتا ہے اور جس کا تعلق ایران کے جوہری پروگرام سے بتایا جاتا ہے، کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
تاہم ٹرمپ نے جمعہ کے روز کہا کہ انہوں نے اب تک ایران کے خلاف کسی نئی بڑے پیمانے کی فوجی کارروائی کا حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔