اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے زور دے کر کہا ہے کہ شام کے خلاف لگائی گئی اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ کیا جائے۔ شام کے خلاف یہ پابندیاں بشارالاسد کے دور میں عائد کی گئی تھیں۔ یہ مطالبہ سیکرٹری جنرل نے شام کے دورے کے اختتام کے دوران کیا ہے۔
انہوں نے اس موقع پر کہا ' میں شام کے خلاف پابندیوں کو نرم کرنے کا خیر مقدم کرتا ہوں ۔ کہ ان نئے قدامات سے شام کے لیے معاشی سرگرمیاں کرنا ممکن ہو جائے گا۔' تاہم انہوں نے تمام پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
واضح رہے شام کی نئی حکومت نے بشارالاسد کا تختہ الٹنے کے بعد اقتدار سنبھال لیا تھا۔ 13 سال کی خانہ جنگی کے بعد ملکی معیشت کو نئے سرے سے بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ امریکہ اور کئی مغربی ملکوں نے بھی شام کو اقتصادی پابندیوں سے ریلیف دیا ہے۔ جبکہ سرمایہ کاری کرنے والی بین الاقوامی شخصیات اور ادارے بھی شام کو ترجیحا دیکھ رہے ہیں۔ عالمی بنک کے ایک تخمینے کے مطابق شامی تعمیر نو کے لیے 216 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔
سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ نے کہا یو این او اس اہم موقع پر شام کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔ میں بین الاقوامی برادری کو بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ شام کے عوام اور حکومت کا ساتھ دیں۔ کیونکہ شام اس وقت ایک دوراہے پر کھڑا ہے۔
اقوام متحدہ کے موجودہ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا یہ پہلا دورہ شام ہے۔ ان سے پہلے 2009 میں اس وقت کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے شام کا دورہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا یہ وقت ہے کہ شام کے لیے اپنے عوام اور اداروں پر سرمایہ لگانے کی ضرورت ہے۔ تاکہ شہر کا انفراسٹرکچر بحال ہو جائے اور لوگوں کو ان کی بنیادی ضروریات آسانی سے ملنے لگیں۔ نیز بیرون ملک نقل مکانی کر جانے والے اہل شام اپنے گھروں کو واپس آ سکیں۔