سعودی عرب کی شاہ عبدالعزیز پبلک لائبریری کے ترمیمی اور معالجاتی مرکز نے لائبریری کے ذخیرے میں شامل 10 ہزار 861 تاریخی اور دستاویزی مواد کی مرمت اور اصلاح میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ان مواد میں نادر مخطوطات، کتابیں، دستاویزات، تصاویر، نقشے، اخبارات اور رسائل شامل ہیں، جو ان اشیاء کو نقصان سے بچانے اور ان کی تاریخی و علمی قدر کو برقرار رکھنے کے ہدف کے تحت کی جانے والی خصوصی کارروائیوں کا حصہ ہیں۔
مرمت کے عمل سے گذرنے والے مواد میں ایسے نادر ذخائر بھی شامل ہیں جن میں سے کچھ کا تعلق ڈھائی سو سال سے زائد پرانے دور سے ہے، جن میں سنہ 1771ء کی الجزیرہ عربیہ کا ایک تاریخی نقشہ بھی شامل ہے، اس کے علاوہ حرمین شریفین اور سعودی شہروں کی عکاسی کرنے والی تصاویر اور مملکت کی تاریخ کے اہم ابواب کو ریکارڈ کرنے والی اخباری اشاعتیں بھی اس میں شامل ہیں۔
يواصل مركز الترميم بالمكتبة أعماله في حفظ وصيانة المقتنيات التاريخية، ويستعرض نتائج ترميم ست #عملات تاريخية، تشمل ثلاث عملات سعودية من عهد الملك عبدالعزيز – طيب الله ثراه – وثلاث عملات حجازية مؤرخة بسنة 1327هـ، حفاظًا على قيمتها التاريخية. pic.twitter.com/Rf5SvxVkZG
— مكتبة الملك عبدالعزيز العامة (@KAPLibrary) July 23, 2026
حرمین کی نادر تصاویر
ترمیمی کاموں میں تاریخی تصاویر کا ایک ایسا مجموعہ بھی شامل ہے جو مسجد حرام اور مسجد نبوی ﷺ کے ساتھ ساتھ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں مختلف زمانوں کے دوران آنے والی عمرانی تبدیلیوں کی دستاویزی حیثیت رکھتا ہے۔
مرکز نے عربی گھوڑوں اور شاہی اصطبل کی تاریخی تصاویر کای بحالی کا کام کیا جو مملکت کے متعدد ملوك اور امراء سے وابستہ ہیں، اس کے علاوہ طائف شہر کی پرانی تصاویر بھی شامل ہیں جو اس کے مقامات، عمرانی ترقی اور وہاں کی سماجی زندگی کے مناظر کو دستاویزی شکل دیتی ہیں۔
ترمیمی کارروائیوں کا مقصد اس بصری ورثے کو خرابی کے عوامل سے بچانا اور اسے ایک ایسے تاریخی ماخذ کے طور پر محفوظ رکھنا ہے جس سے خصوصی مطالعات اور تحقیقات میں استفادہ کیا جا سکے۔
مملکت کی تاریخ کی عکاسی کرنے والے اخبارات
مرکز کا کام وقت کے اثرات سے متاثر ہونے والے نادر اخبارات، رسائل اور مجلات کی مرمت تک بھی پھیلا ہوا ہے، جن میں روزنامہ "الرياض" کا ایک خصوصی شمارہ بھی شامل ہے جس کا عنوان "الرياض ماضی اور حال کے درمیان" تھا، جس کے صفحات کو اس کی اصل خصوصیات اور ظاہری شکل کو برقرار رکھتے ہوئے دوبارہ بحال کیا گیا۔
مرکز نے سنہ 1953ء میں جاری ہونے والی مجله "صوت الشرق" کا چودہواں شمارہ بھی مرمت کیا جو شاہ سعود کے دور میں مملکت کے لیے مخصوص نمبر کے طور پر شائع ہوا تھا، اس کے علاوہ روزنامہ "الخواطر" کا شمارہ نمبر 960 کی بھی مرمت کی گی جو 29 مارچ سنہ 1975ء کو جاری ہوا تھا، جس نے شاہ فیصل بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی وفات کی دستاویزی عکاسی کی تھی۔
ان اشاعتوں کو نقصان کے اثرات کو روکنے اور ان کے اصل اجزاء اور دستاویزی قدر کو برقرار رکھنے کے مقصد سے باریک بینی سے صفائی، معالجے اور مضبوطی کے مراحل سے گزارا گیا۔
ڈھائی سو سال سے پرانا نقشہ
تاریخی نقشوں کے شعبے میں مرکز نے متعدد نادر نقشوں کا علاج کیا، جن میں نمایاں ترین جزیرہ نما عرب کے نقشے کا ایک نسخہ ہے جس کا اصل تعلق سنہ 1771ء سے ہے، جبکہ اس کا ایڈیشن سنہ 1789ء میں تانبے پر کھدائی کی تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے جاری کیا گیا تھا۔
یہ نقشہ جزیرہ نما عرب کی تینوں کلاسیکی تقسیمات کو پیش کرتا ہے، اور اس میں متعدد شہروں اور مقامات، بشمول درعیہ، رماح، المذنب، حوطہ اور ابو عریش کے بارے میں جغرافیائی معلومات بھی شامل ہیں، اس کے علاوہ اٹھارہویں صدی میں نقشہ تیار کرنے کے طریقوں کی عکاسی کرنے والے نقش و نگار اور ڈرائنگ بھی اس میں موجود ہیں۔
مرمت سے پہلے جراثیم کشی
مرکز میں تاریخی ذخائر کے ساتھ کام کا آغاز معالجے اور مرمت کی طرف بڑھنے سے پہلے جراثیم کشی کے مرحلے سے ہوتا ہے، جو ہر مادہ کی نوعیت اور اس کی حالت کے مطابق مناسب طریقہ کار کے تحت کیا جاتا ہے۔
اس مرحلے کا مقصد معالجاتی کارروائیاں کرنے سے پہلے نقصان کی وجوہات کو پھیلنے سے روکنا ہے، جن میں اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ ذخیرے کے اصل اجزاء محفوظ رہیں اور اس کی تاریخی خصوصیات پر کوئی اثر نہ پڑے۔
افراد اور اداروں کے لیے خدمات
مرکز کا کام صرف شاہ عبدالعزيز پبلک لائبریری کے ذخیروں تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ افراد، سرکاری اور نجی اداروں کے ذخائر کو بھی وصول کرتا ہے، اور ان کی حالت کا جائزہ لینے کے لیے ان کی جانچ پڑتال کرتا ہے تاکہ مطلوبہ مداخلت کی قسم کا تعین کیا جا سکے، خواہ وہ جراثیم کشی ہو، معالجہ ہو یا مرمت۔
مرکز ثقافتی ورثے کے تحفظ میں خصوصی تربیتی پروگرام اور ورکشاپس بھی منعقد کرتا ہے جو ماہرین، دلچسپی رکھنے والوں اور متعلقہ اداروں کے لیے ہوتے ہیں، جن کا مقصد تجربات منتقل کرنا اور دستاویزی ورثے کے تحفظ کے میدان میں سائنسی طریقوں کو فروغ دینا ہے۔
یہ تمام اقدامات شاہ عبدالعزيز پبلک لائبریری کی اس کوشش کا حصہ ہیں جو دستاویزی اور ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے، تاریخی ذخائر کو نقصان سے بچانے اور ان کی پائیداری کو یقینی بناتے ہوئے محققین اور آنے والی نسلوں کے لیے انہیں دستیاب کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔