امریکا کے نزدیک ایران پر پابندیاں فضائی حملوں سے زیادہ مؤثر ہتھیارہے:ایکسِیوس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کا خیال ہے کہ ایران کو کمزور کرنے کے لیے معاشی پابندیاں فوجی حملوں کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں، اگرچہ حالیہ امریکی فضائی کارروائیوں نے مالی دباؤ کے مقابلے میں زیادہ توجہ حاصل کی ہے۔

ایکسِیوس کی رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ کے سینئر حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی معاشی صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے اور سخت اقتصادی پابندیاں، بحری ناکہ بندی کے ساتھ مل کر، ایسے دباؤ کے ذرائع ہیں، جو بالآخر تہران کو مذاکرات کی میز پر رعایتیں دینے پر مجبور کر سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایک سینئر امریکی عہدیدار نے کہا کہ ایرانی قیادت چاہتی ہے کہ بمباری رک جائے، لیکن اسے اس سے بھی زیادہ پیسوں کی ضرورت ہے۔

ان کے مطابق تہران کی اولین ترجیح معاشی دباؤ میں کمی، منجمد اثاثوں کی رہائی اور امریکی پابندیوں کا خاتمہ ہے۔

شدید ہوتا معاشی بحران

رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس کے تخمینوں اور دستیاب عوامی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کا معاشی بحران مسلسل گہرا ہوتا جا رہا ہے۔

ان اشاروں میں ایندھن کی قلت بھی شامل ہے، حالانکہ ایران دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر رکھنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔

ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ مالی دباؤ نے ایران کی اپنے اتحادی گروہوں کی مالی معاونت کی صلاحیت کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔

ان کے مطابق انٹیلی جنس رپورٹس میں ایسی شکایات سامنے آئی ہیں کہ ایران سے وابستہ جنگجوؤں کو ادائیگیاں کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

عہدیدار نے بینکاری کے شعبے پر بڑھتے ہوئے دباؤ، بینکوں سے بڑے پیمانے پر رقوم نکالے جانے کے خدشات، پٹرول کی مسلسل قلت اور نقدی کی کمی کا بھی ذکر کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں "ایرانی عوام امریکی محکمۂ دفاع کے مقابلے میں امریکی محکمۂ خزانہ سے زیادہ خوفزدہ ہیں۔

امریکی انتظامیہ کا خیال ہے کہ اقتصادی پابندیاں ایران پر زیادہ اہم اثر ڈال سکتی ہیں (مثالی)۔
امریکی انتظامیہ کا خیال ہے کہ اقتصادی پابندیاں ایران پر زیادہ اہم اثر ڈال سکتی ہیں (مثالی)۔

ثالثی ممالک کے ذریعے مذاکرات جاری

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 13 روزہ فوجی کارروائیوں کے بعد امریکی حملے روکنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران نے نئے معاہدے پر بات چیت کے لیے ملاقات کی درخواست کی ہے۔

تاہم ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس دعوے کی تردید کی۔اگرچہ تہران نے اس کی نفی کی ہے، لیکن ایکسِیوس کی رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کے ذریعے رابطے بدستور جاری ہیں۔

ان مذاکرات میں عمان، قطر اور پاکستان اہم ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں، تاکہ جنگ بندی کو زیادہ پائیدار اور مستحکم جنگ بندی میں تبدیل کیا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق ان مذاکرات کا ایک اہم نکتہ وہ تجویز ہے ،جس کے تحت ایران اور سلطنتِ عمان کو آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے انتظام میں زیادہ کردار دیا جائے، جس سے دونوں ممالک کو اضافی آمدنی حاصل ہو سکتی ہے۔

یہ تجویز آبنائے ملاکا اور سنگاپور میں موجود تعاون کے ماڈل سے متاثر بتائی جاتی ہے۔تاہم ایک امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ اس تجویز پر ایران کے اندر اختلافِ رائے پایا جاتا ہے۔

دوسری جانب واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ کسی بھی معاہدے میں ایران کو اپنے پاس موجود باقی ماندہ جوہری مواد سے دستبردار ہونا ہوگا، جبکہ بین الاقوامی بحری راستوں کو خطرے میں ڈالنے کے بدلے اسے معاشی فوائد دینے کی مخالفت کی جا رہی ہے۔

زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی دوبارہ فعال

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے خلاف ''زیادہ سے زیادہ دباؤ'' (Maximum Pressure) کی پالیسی دوبارہ نافذ کر دی ہے۔

اس کے تحت ایک ہزار سے زائد افراد، بحری جہازوں اور طیاروں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جن کا ہدف ایران کی تیل کی تجارت، غیر رسمی مالیاتی نیٹ ورکس، اسلحے کی خریداری اور شپنگ کے شعبے کو بنانا ہے۔

دوسری جانب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ معاشی جنگ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں فوجی کارروائیوں کے مقابلے میں زیادہ وقت لے سکتی ہے۔

ان کے مطابق اگر یہ کشیدگی برقرار رہی تو توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث امریکی انتظامیہ کو بھی سیاسی اور معاشی قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔

اس کے باوجود وائٹ ہاؤس کی ترجمان کارولین لیویٹ نے کہا کہ امریکی صدر سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم اگر ایران ایسے اقدامات جاری رکھتا ہے، جنہیں واشنگٹن آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت یا اپنے اتحادیوں کے لیے خطرہ سمجھتا ہے، تو تمام آپشنز میز پر موجود رہیں گے۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تجزیے امریکی حکام اور انتظامیہ کے اندرونی ذرائع کے مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں۔

دوسری جانب ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے کہ امریکی پابندیاں اسے تیل کی برآمدات جاری رکھنے سے نہیں روک سکیں، اور وہ اس امریکی دعوے کو بھی مسترد کرتا ہے کہ معاشی دباؤ نے اس کے سیاسی یا فوجی مؤقف کو تبدیل کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں