اطالوی دارالحکومت روم میں آئندہ ہفتے امریکا کی سرپرستی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کا ایک نیا دور منعقد ہونے والا ہے۔
اس بات چیت کا مقصد جنوبی سرحد پر امن و استحکام کو مضبوط بنانا اور جنگ بندی کے بعد طے پانے والے سیکیورٹی معاہدوں پر عمل درآمد کو آگے بڑھانا ہے۔
اسرائیلی چینل N12 اور صحافی باراک راوِد کے مطابق امریکی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ یہ مذاکرات 4 سے 6 اگست کے درمیان ہوں گے۔
ان میں جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی دوبارہ تعیناتی کے دائرہ کار میں توسیع اور دونوں ممالک کے درمیان زمینی سرحد سے متعلق تنازعات پر بھی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ جنوبی لبنان میں پہلی ''تجرباتی زون'' کے قیام اور گزشتہ ہفتے لبنانی صدر جوزف عون اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات کے بعد اسرائیل اور لبنان کے درمیان سفارتی عمل میں نمایاں پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ روم میں ہونے والے تکنیکی ورکنگ گروپس کے اجلاس امریکا کے زیرِ سرپرستی فریم ورک معاہدے پر مکمل عمل درآمد کو آگے بڑھانے پر توجہ دیں گے۔
مذاکرات کے ایجنڈے میں تجرباتی علاقوں کے دائرہ کار میں توسیع، تمام زیرِ التوا سرحدی تنازعات کا حل، اور دونوں ممالک کے درمیان امن و سلامتی سے متعلق ایک جامع معاہدے تک پہنچنے کی کوششیں شامل ہیں۔
تجرباتی علاقوں میں توسیع
امریکی عہدیدار نے وضاحت کی کہ جنوبی لبنان میں اس وقت قائم کیے جانے والے پہلے تجرباتی علاقے کو زمین پر عملی پیش رفت کے لیے ایک موقع سمجھا جا رہا ہے۔
اس کے ذریعے لبنانی ریاست کی عمل داری کو مضبوط بنانے کی کوشش کی جائے گی، جس میں مسلح تنظیموں کو قابلِ تصدیق طریقے سے غیر مسلح کرنا اور آئندہ مراحل کے لیے ضروری اعتماد سازی شامل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ تجربہ ان علاقوں کے نفاذ کے طریقۂ کار کو بہتر بنانے میں مدد دے گا، جس کے بعد انہیں جنوبی لبنان کے دیگر علاقوں تک مرحلہ وار وسعت دی جا سکے گی۔
امریکی عہدیدار نے یہ واضح نہیں کیا کہ توسیع کے مرحلے میں جنوبی لبنان کے کون سے علاقے شامل کیے جا سکتے ہیں۔
دوسری جانب لبنانی اور اسرائیلی حکومتوں کی جانب سے متوقع مذاکرات کی تفصیلات پر ابھی تک کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔
سرحدی معاملات اور انخلا کا مسئلہ
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں، جب لبنان اور اسرائیل کے درمیان زمینی سرحد پر اب بھی کئی متنازع امور موجود ہیں۔
ان میں وہ علاقے بھی شامل ہیں، جن کا تنازع کئی برسوں سے حل طلب ہے۔لبنان کا مطالبہ ہے کہ اسرائیل ان مقامات سے اپنی فوج واپس بلائے جہاں وہ اب بھی لبنانی حدود کے اندر موجود ہے، جبکہ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ مزید کسی بھی پیش رفت کا انحصار لبنان کی جانب سے سیکیورٹی انتظامات پر ہوگا۔
توقع ہے کہ ان اجلاسوں میں جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی دوبارہ تعیناتی کے دائرہ کار کو بڑھانے کے طریقۂ کار پر بھی بات چیت کی جائے گی، تاکہ گزشتہ چند ماہ کے دوران امریکی سرپرستی میں طے پانے والی سیکیورٹی مفاہمتوں کے مطابق عمل درآمد کو آگے بڑھایا جا سکے۔
واشنگٹن کی قیادت میں سفارتی عمل
امریکہ گزشتہ کئی ماہ سے اسرائیل اور لبنان کے درمیان شدید سفارتی رابطے جاری رکھے ہوئے ہے، جس کا مقصد دوبارہ فوجی جھڑپوں کے آغاز کو روکنا اور جنگ بندی کو زیادہ مستحکم سیکیورٹی انتظامات میں تبدیل کرنا ہے۔
امریکی عہدیدار نے کہا کہ تین فریقی فریم ورک معاہدہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان پائیدار امن کے حصول کا واحد راستہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی انتظامیہ سمجھتی ہے کہ اس فریم ورک پر مکمل عمل درآمد دونوں فریقوں کے مشترکہ مفاد میں ہے اور ٹرمپ انتظامیہ اس کی حمایت جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ مذاکرات زیرِ بحث معاملات پر حتمی اتفاق رائے تک پہنچنے میں کتنے کامیاب ہوں گے، تاہم امریکی عہدیدار کے مطابق آئندہ دور کے مذاکرات کا مقصد تکنیکی اور سیکیورٹی امور میں عملی پیش رفت حاصل کرنا ہے، تاکہ اگر دونوں فریقوں کے درمیان مثبت ماحول برقرار رہا تو مزید بڑے اقدامات کی راہ ہموار کی جا سکے۔