بشار الاسد کے ایجنٹ نے مفتیٔ اعظم شام کے بیٹے کو قتل کر دیا

قتل کا مقصد عوامی ہمدردی حاصل کرنا تھا: العربیہ لیکس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ساریہ حسون کا قتل

Advertisement
ایک اور آپریشنل آرڈر پر فضائی انٹیلی جنس کے خصوصی مشن سیکشن کے سربراہ بریگیڈئیر صقر منون کے دستخط تھے۔ یہ لیفٹیننٹ کرنل سہیل حسن کو بھیجا گیا تھا۔اس میں انھیں فوری طور پر ملک کے شمالی علاقے میں جانے کی ہدایت کی گئی تھی اور انھیں کہا گیا تھا کہ وہ وہاں جا کر مفتی اعظم شام شیخ احمد بدر الدین حسون کے بیٹے ساریہ حسون کو قتل کر دیں۔

اس حکم نامے پر 28 ستمبر 2011ء کو دستخط کیے گئے تھے اور اس کے بعد ساریہ حسون کو ادلب اور حلب کے درمیان واقع شاہراہ پر جامعہ ابلہ کے نزدیک گولی مار دی گئی تھی۔ ان کے سینے اور معدے میں دو گولیاں اتاری گئی تھیں۔ انھیں فوری طور پر ادلب کے نیشنل اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ اپنے خالق حقیقی سے جاملے تھے۔

شامی حکام نے ''مسلح گینگز'' پر ساریہ حصون کے قتل کا الزام عاید کیا تھا حالانکہ ان کے والد مفتی اعظم بدر الدین حسون تب تک حکومت کے زبردست حامی اور مؤید تھے۔اس قتل کے ذریعے شامی حکومت نے عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن یہ واردات اسے الٹی پڑی تھی اور اس کی جانب ہی انگلیاں اٹھائی گئی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں