.

بشار الاسد کے ایجنٹ نے مفتیٔ اعظم شام کے بیٹے کو قتل کر دیا

قتل کا مقصد عوامی ہمدردی حاصل کرنا تھا: العربیہ لیکس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

العربیہ کے ہاتھ لگنے والی شام کی خفیہ دستاویزات سے نت روز نئے نئے انکشافات ہو رہے ہیں اور ملک میں جاری خونریزی کی نئی ہوشربا تفصیلات سامنے آ رہی ہیں۔شام میں گذشتہ سال مارچ سے جاری عوامی احتجاجی تحریک کے دوران تیس ہزار سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں۔نئی منظرعام پر آنے والی انتہائی خفیہ دستاویزات کے مطابق حکومت مخالفین کی اکثریت کو اسد رجیم کے براہ راست احکامات کے نتیجے میں موت کی نیند سلا دیا گیا تھا۔

العربیہ ٹی وی پر گذشتہ ہفتے سے شام کی خفیہ دستاویزات کو نشر کرنے کا سلسلہ جاری ہے لیکن اتوار کو پہلی مرتبہ شام کی خفیہ ایجنسیوں کی انتہائی خفیہ دستاویزات کو نشر کیا گیا ہے۔ان میں سے ایک فائل کا عنوان ''آپریشنل آرڈر'' تھا۔ یہ شام کی غیرملکی انٹیلی جنس سروس کی آپریشنز برانچ کی جانب سے اس کے ایجنٹ سمیر حداد کو بھیجی گئی تھی اور اس میں انھیں مختلف صوبوں میں حکومت مخالفین کا قلع قمع کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

خفیہ ایجنسیوں کی فائلوں اور دستاویزات میں ان کے ایجنٹوں کو کوڈز دیے گئے تھے۔ انھی میں سے ایک دستاویز پر 29جولائی 2011ء کی تاریخ لکھی تھی۔اس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے تحت حکم ملنے کے بعد شامی ایجنٹوں نے حکومت مخالف تحریک میں نمایاں کردار ادا کرنے والے کارکنان کو چن چن کر قتل کرنا شروع کر دیا تھا۔

انھی مقتولین میں سے ایک نوجوان کارکن غیاث مطر تھے،انھوں نے اپنی گرفتاری کے فوری بعد پکڑ کر لے جانے والے سرکاری فوجیوں کو پھول اور پینے کا پانی پیش کیا تھا۔انھیں ستمبر2011ء میں داریا میں قتل کر دیا گیا تھا۔ مقتول غیاث مطر نے صدر بشار الاسد کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کو پُرامن رکھنے کے لیے اہم کردار ادا کیا تھا لیکن ان کے قتل نے عوامی مزاحمتی تحریک پر منفی اثرات اثرات مرتب کیے تھے اور پُرامن مزاحمتی تحریک مسلح بغاوت میں تبدیل ہو گئی تھی۔

ایک اور آپریشنل آرڈر پر فضائی انٹیلی جنس کے خصوصی مشن سیکشن کے سربراہ بریگیڈئیر صقر منون کے دستخط تھے۔ یہ لیفٹیننٹ کرنل سہیل حسن کو بھیجا گیا تھا۔اس میں انھیں فوری طور پر ملک کے شمالی علاقے میں جانے کی ہدایت کی گئی تھی اور انھیں کہا گیا تھا کہ وہ وہاں جا کر مفتی اعظم شام شیخ احمد بدر الدین حسون کے بیٹے ساریہ حسون کو قتل کر دیں۔

اس حکم نامے پر 28 ستمبر 2011ء کو دستخط کیے گئے تھے اور اس کے بعد ساریہ حسون کو ادلب اور حلب کے درمیان واقع شاہراہ پر جامعہ ابلہ کے نزدیک گولی مار دی گئی تھی۔ ان کے سینے اور معدے میں دو گولیاں اتاری گئی تھیں۔ انھیں فوری طور پر ادلب کے نیشنل اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ اپنے خالق حقیقی سے جاملے تھے۔

شامی حکام نے ''مسلح گینگز'' پر ساریہ حصون کے قتل کا الزام عاید کیا تھا حالانکہ ان کے والد مفتی اعظم بدر الدین حسون تب تک حکومت کے زبردست حامی اور مؤید تھے۔اس قتل کے ذریعے شامی حکومت نے عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن یہ واردات اسے الٹی پڑی تھی اور اس کی جانب ہی انگلیاں اٹھائی گئی تھیں۔