غزہ پر حملے کے پیش نظر 30 ہزار ریزرو اسرائیلی فوجی طلب

فوج کو مزاحمت کاروں کی خفیہ معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

درایں اثناء اسرائیل کی داخلی سلامتی کے خفیہ ادارے’’شاباک‘‘ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوج کو غزہ کی پٹی میں موجود مزاحمت کاروں کی مرکزی قیادت اور ان کے فیلڈ کمانڈروں کے بارے میں خفیہ معلومات فراہم کرے تا کہ ان معلومات کی روشنی میں مزاحمت کاروں کو قاتلانہ حملوں میں ٹھکانے لگانے کا سلسلہ شروع کیا جا سکے۔

شاباک کے اس مطالبے کا اصل مقصد غزہ کی پٹی میں مزاحمت کاروں کی ٹارگٹ کلنگ کی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنا ہے۔ اسرائیلی فوج پچھلے دو دن سے اسی پالیسی پرپہلے ہی عمل کر رہی ہے۔ غزہ میں مزاحمتی تنظیموں کے مراکز کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا ہے۔

ادھر دوسری جانب غزہ کی پٹی میں وزارت داخلہ نے خبردار کیا ہے کہ فلسطینی مزاحمت کاروں کے بارے میں خفیہ معلومات فراہم کرنے والے دشمن کے ایجنٹوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

وزرات داخلہ کے ترجمان اسلام شہوان نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ہم مزاحمت کاروں کی ٹارگٹ کلنگ کی صہیونی دھمکیوں کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ غزہ شہر میں کسی شخص کو دشمن کے لیے جاسوسی کی اجازت نہیں ہو گی۔

ترجمان نے بتایا کہ پولیس نے کئی مشتبہ افراد کو حراست میں لیاہے جن پر دشمن کے ساتھ خفیہ تعاون کا شبہ ہے۔ صہیونی فوج کی بمباری کے بعد غزہ پولیس چیف کرنل تیسیر البطش نے پولیس کے محکمے کی چھٹیاں منسوخ کرتے ہوئےاہلکاروں کو صہیونی حملوں کے دوران عوام کو ہر ممکن تحفظ فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں