.

غزہ پر حملے کے پیش نظر 30 ہزار ریزرو اسرائیلی فوجی طلب

فوج کو مزاحمت کاروں کی خفیہ معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اسرائیلی کابینہ نے وزیر دفاع ایہود باراک کے مطالبے پر فلسطینی مزاحمت کاروں کے خلاف ممکنہ لڑائی کے پیش نظر تیس ہزار ریزرو فوج کو جنگ کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا ہے۔ العربیہ ٹی وی کے نامہ نگار کے مطابق کابینہ کی نو رکنی دفاعی کمیٹی کا ایک اہم اجلاس وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی زیر صدارت آج ہو رہا ہے، جس میں غزہ کی پٹی سے مزاحمت کاروں کے تل ابیب پر داغے گئے راکٹ حملوں کے بعد فوجی کارروائی پر غور کیا جائے گا۔



ادھر غزہ کی پٹی سے العربیہ کے نامہ نگار نے اپنے مراسلے میں بتایا ہے کہ صہیونی فوج کے جیٹ طیاروں نے شہر کے مختلف اطراف میں درجنوں بم برسائے ہیں۔ صہیونی جنگی طیاروں کی غزہ پر اندھا دھند بمباری حماس کے ملٹری ونگ القسام بریگیڈ کے اس دعوے کے بعد کی گئی جس میں کہا گیا تھا کہ مجاہدین کے زمین سے فضاء میں نشانہ بنانے والے ایک راکٹ حملے میں اسرائیلی جنگی طیارے کو نقصان پہنچا ہے۔



صہیونی لڑاکا طیارے کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ مشرقی غزہ میں مزاحمتی تنظیموں کے ٹھکانوں پر بمباری کر رہا تھا۔ اس کارروائی کے بعد اسرائیلی آرمی چیف نے متعلقہ فوجی کمان کو غزہ کی پٹی پر رات بھر حملوں میں شدت لانے کے احکامات دیئے تھے۔



جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب اسرائیلی فوج کے ایف سولہ طیاروں کے ذریعے غزہ محکمہ دفاع کے دفاتر پر بھی بمباری کی گئی۔ شہر کے مغرب میں وزیر اعظم اسماعیل ھنیہ کی رہائش گاہ سے ملحقہ ایک کمپاؤنڈ کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ رات بھر غزہ شہر میں ایمبولینسوں کی نقل وحرکت بھی جاری رہی ہے۔

نامہ نگار کے مطابق غزہ کی پٹی میں مجاہدین کی جانب سے اسرائیلی جنگی طیارے کو نقصان پہنچانے کے واقعے کے بعد فلسطینیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ رات گئے مساجد سے مزاحمت کاروں کی فتح کے اعلانات بھی کیے جاتے رہے ہیں۔



اسرائیل نے بھی اعتراف کیا ہے کہ القسام بریگیڈ کی جانب سے جدید نوعیت کے الفجر میزائل پہلی مرتبہ تل ابیب اور ریشو نتسیون شہر میں گرے ہیں جن سے کئی مکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔ الفجر میزائل حملوں کے بعد لڑائی میں شدت کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ الفجر میزائل حملوں کے خوف سے اسرائیل نے رات گئے بن غوریون بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بھی ہر قسم کی فضائی سروس کے لیے بند کر دیا تھا۔ صہیونی حکام کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ہوائی اڈے کی بندش کا فیصلہ حماس اور اسلامی جہاد کی جانب سے دور مار راکٹ حملوں کے خطرے کے پیش نظر کیا گیا ہے۔



غزہ میں فلسطینی وزارت داخلہ نے عبرانی میڈیا کو بھی آڑے ہاتھوں لیا ہے اور کہا ہے کہ قابض اسرائیل کے ذرائع ابلاغ فلسطینیوں کو خوف زدہ کرنے کی مہم چلا رہے ہیں لیکن وہ اس میڈیا کے ساتھ بھی سختی سے نمٹیں گے۔

شاباک ٹارگٹ کلنگ کے لیے تیار

درایں اثناء اسرائیل کی داخلی سلامتی کے خفیہ ادارے’’شاباک‘‘ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوج کو غزہ کی پٹی میں موجود مزاحمت کاروں کی مرکزی قیادت اور ان کے فیلڈ کمانڈروں کے بارے میں خفیہ معلومات فراہم کرے تا کہ ان معلومات کی روشنی میں مزاحمت کاروں کو قاتلانہ حملوں میں ٹھکانے لگانے کا سلسلہ شروع کیا جا سکے۔

شاباک کے اس مطالبے کا اصل مقصد غزہ کی پٹی میں مزاحمت کاروں کی ٹارگٹ کلنگ کی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنا ہے۔ اسرائیلی فوج پچھلے دو دن سے اسی پالیسی پرپہلے ہی عمل کر رہی ہے۔ غزہ میں مزاحمتی تنظیموں کے مراکز کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا ہے۔

ادھر دوسری جانب غزہ کی پٹی میں وزارت داخلہ نے خبردار کیا ہے کہ فلسطینی مزاحمت کاروں کے بارے میں خفیہ معلومات فراہم کرنے والے دشمن کے ایجنٹوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

وزرات داخلہ کے ترجمان اسلام شہوان نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ہم مزاحمت کاروں کی ٹارگٹ کلنگ کی صہیونی دھمکیوں کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ غزہ شہر میں کسی شخص کو دشمن کے لیے جاسوسی کی اجازت نہیں ہو گی۔

ترجمان نے بتایا کہ پولیس نے کئی مشتبہ افراد کو حراست میں لیاہے جن پر دشمن کے ساتھ خفیہ تعاون کا شبہ ہے۔ صہیونی فوج کی بمباری کے بعد غزہ پولیس چیف کرنل تیسیر البطش نے پولیس کے محکمے کی چھٹیاں منسوخ کرتے ہوئےاہلکاروں کو صہیونی حملوں کے دوران عوام کو ہر ممکن تحفظ فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔