.

خالد مشعل کا 45 سال کے بعد فلسطینی سر زمین پر پہلا قدم

حماس کے سربراہ کا غزہ آمد پر شاندار استقبال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
غزہ کی حکمراں فلسطینی جماعت حماس کے سربراہ خالد مشعل نے پینتالیس کے بعد پہلی مرتبہ فلسطینی سر زمین پر قدم رکھا ہے اور وہ مصر سے رفح بارڈر کراسنگ کے ذریعے غزہ پہنچے ہیں جہاں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔

خالد مشعل کے ہمراہ حماس کے نائب سربراہ موسیٰ ابو مرزوق اور دوسرے سنئیر عہدے دار بھی غزہ پہنچے ہیں۔وہ رفح بارڈر کراسنگ سے گزرنے کے بعد فلسطینی سرزمین پر قدم رکھتے ہی سربسجود ہو گئے اور انھوں نے اپنی سر زمین کو چُوما۔ غزہ میں حماس کے وزیر اعظم اسماعیل ہنئیہ اور دوسرے عہدے داروں نے ان کا خیر مقدم کیا۔

خالد مشعل نے گیارہ سال کی عمر میں مغربی کنارے میں اپنے والدین کے ہمراہ اپنا آبائی علاقہ چھوڑا تھا اور اس کے بعد سے انھوں نے فلسطینی سرزمین پر قدم نہیں رکھا تھا۔ وہ پہلے شام کے دارالحکومت دمشق میں جلا وطنی کی زندگی گزارتے رہے تھے اور وہاں سے حماس کی قیادت کر رہے تھے۔شام میں جاری خانہ جنگی کے بعد اس سال کے آغاز میں حماس کے دفاتر دمشق سے قطر کے دارالحکومت دوحہ منتقل کر دیے گئے تھے۔

اسرائیل کی غزہ پر حالیہ آٹھ روزہ جارحیت کے بعد خالد مشعل ہیرو بن کر ابھرے ہیں اور انھوں نے مصر کی ثالثی میں اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے لیے کامیاب مذاکرات کیے تھے۔اب وہ متحارب فلسطینی دھڑوں کے ساتھ مصالحت کے لیے کوشاں ہیں۔انھوں نے گذشتہ ہفتے برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ فلسطینیوں کا''اب ایک نیا موڈ سامنے آیا ہے جس سے ہم مفاہمت کا مقصد حاصل کرسکتے ہیں''۔

حماس اسی ماہ اپنا پچیسواں یوم تاسیس منا رہی ہے اوراس نے خالد مشعل کی غزہ آمد کے موقع پر ہفتے کے روز ایک ریلی کا اہتمام کیا ہے۔حماس کے لیڈر کے تحفظ کے لیے اسرائیل سے کوئی بات نہیں کی گئی البتہ جماعت کی قیادت کا کہنا ہے کہ وہ ان کا تحفظ خود کرے گی۔حماس یوم تاسیس کے ساتھ گذشتہ مہینے اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں اپنی فتح بھی منا رہی ہے۔

اسرائیلی فوج کے غزہ کی پٹی پر ایک ہفتے تک جاری رہے فضائی حملوں میں ایک سو ستر فلسطینی شہید ہو گئےتھے۔ اسرائیل نے اپنی تباہ کن بمباری میں حماس کے متعدد دفاتر کو تباہ کردیا تھا اور یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس نے فلسطینی جماعت کو شدید نقصان پہنچایا ہے لیکن اس جنگ کے بعد خطے میں حماس کی حمایت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور ترکی اور عرب لیگ کے وزرائے خارجہ نے بہ نفس نفیس اسرائیل کے محصور علاقے کا دورہ کرکے حماس کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔

خالد مشعل کا غزہ کی پٹی کا یہ پہلا تاریخی دورہ ہے۔وہ مغربی کنارے میں پیدا ہوئے تھے لیکن 1967ء کی چھے روزہ جنگ کے بعد سے جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔واضح رہے کہ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد نے 1997ء میں اردن کے دارالحکومت عمان میں خالد مشعل پر قاتلانہ حملہ کرایا تھا اور انھیں زہر دے دیا گیا تھا۔تاہم وہ اس میں محفوظ رہے تھے۔

چند ماہ قبل غزہ کی پٹی کی حکمران حماس نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس کے سربراہ خالد مشعل نئی مدت کے لیے اپنا دوبارہ انتخاب نہیں چاہتے اور وہ جماعت کی قیادت سے دستبردار ہو رہے ہیں۔حماس نے خالد مشعل پر زور دیا تھا کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں اور قیادت کا فیصلہ حماس کے اداروں کو کرنا چاہیے۔ بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ فیصلہ کسی ایک شخص حتیٰ کہ اس کے لیڈر کو بھی نہیں کرنا چاہیے اور پوری جماعت اتفاق رائے سے قائد کے مستقبل کا فیصلہ کرے۔