.

موصل مالکی مخالف مظاہرے کے دوران عراقی کی خود سوزی

سنی اکثریتی علاقوں میں وزیر اعظم مالکی کے خلاف احتجاج جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
عراق کے شمالی شہر موصل میں وزیر اعظم نوری المالکی کے خلاف احتجاجی ریلی کے دوران ایک شہری نے خود سوزی کر لی ہے۔

موصل میں اتوار کو وزیر اعظم مالکی کی حکومت کے خلاف ہونے والے مظاہرے میں قریباً دو ہزار افراد شریک تھے۔ ریلی میں شریک ایک شخص نے اچانک خود کو آگ لگا لی۔ تاہم مظاہرے کے دوسرے شرکاء نے فوراً ہی اپنی جیکٹوں کے ساتھ آگ پر قابو پا لیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ خود سوزی کرنے والے شخص کو اسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے۔اس کا چہرہ اور ہاتھ جل گئے ہیں۔

مظاہرے کے منتظم غانم العابد کا واقعہ کے حوالے سے کہنا تھا:''ہم یہ نہیں چاہتے کہ لوگ خودکشیاں کریں یا خود کو آگ لگائیں ،یہ سب اسلام کے خلاف ہے لیکن خودسوزی کرنے والا مایوسی کی اس سطح تک پہنچ چکا تھا کہ اس نے خود کو آگ لگا لی''۔

عراق کے سنی اکثریتی شہروں اور خاص طور پر مغربی صوبہ الانبار میں دسمبر کے آخر سے ہزاروں افراد مالکی حکومت کی اہل سنت مخالف پالیسیوں اور ملک میں نافذ انسداد دہشت گردی قوانین کے خلاف احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں اور ان میں ترامیم کا مطالبہ کر رہے ہیں جو ان کے بہ قول اہل سنت کو دبانے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ بعض مظاہرین وزیر اعظم نوری المالکی سے مستعفی ہونے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔

وزیراعظم مالکی نے نائب وزیراعظم حسین الشہرستانی کو مظاہرین کے مطالبات کا جائزہ لینے کے لیے حکومتی نمائندہ مقرر کیا ہے اور حکومت نے مظاہرین کو ممنون کرنے کے لیے چار سو سے زیادہ قیدیوں کو رہا بھی کر دیا ہے۔

لیکن ایک سنی رکن پارلیمان وحدہ الجمیلی کا کہنا ہے کہ ''اب بات چیت کا کوئی وقت نہیں رہ گیا ہے۔ حکومت اپنی ذمے داری قبول کرے اور مظاہرین کے مطالبات کو پورا کرنے کے لیے سخت فیصلے کرے''۔

عراق کے اہل سنت نے دسمبر کے آخرمیں وزیرخزانہ رافع العیساوی کے محافظوں کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع کیے تھے۔اب ان کی تحریک طول پکڑ چکی ہے۔ صوبہ الانبار میں ہزاروں مظاہرین نے صوبائی دارالحکومت رمادی کے نزدیک عراق کو اردن اور شام سے ملانے والی مرکزی تجارتی شاہراہ پر دھرنا دے رکھا ہے اور اسے ہرقسم کے ٹریفک کی آمدورفت کے لیے بند کررکھا ہے۔

مظاہرین وزیر اعظم مالکی سے سیاسی قیدیوں کی رہائی اور انسداد دہشت گردی کے متنازعہ قانون کے خاتمے اور اہل سنت کے علاقوں میں بنیادی شہری سہولتیں مہیا کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ الانبار میں گذشتہ دوہفتوں سے کشیدگی پائی جا رہی ہے اور اس سے وزیر اعظم نوری المالکی کی حکومت کے لیے خطرات پیدا ہو چکے ہیں۔