.

بشارالاسد عوام میں اچانک نمودار، دمشق میں تعلیمی مرکزکا دورہ

شامی صدر کی''شہید طلبہ'' کے والدین اور اقارب سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی صدر بشارالاسد نے بدھ کو دارالحکومت دمشق میں اچانک تعلیمی مرکز برائے فائن آرٹس کا دورہ کیا ہے اور وہ وہاں خانہ جنگی میں مارے گئے طلبہ کے والدین اور عزیزواقارب سے ملاقات کی ہے۔

ایوان صدر کی جانب سے اس کے فیس بُک صفحے پر جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ''صدر بشارالاسد نے تعلیمی مراکز برائے فائن آرٹس کا اچانک دورہ کیا ہے،وہاں وزارت تعلیم کی جانب سے دہشت گردی کی کارروائیوں میں شہید ہونے والے طلبہ کے خاندانوں کے اعزاز میں تقریب منعقد کی جارہی تھی''۔

شامی صدر 24 جنوری کے بعد پہلی مرتبہ دمشق میں منظرعام پر آئے ہیں۔تب انھوں نے یوم میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر دمشق کے شمال میں ایک مسجد میں نماز ادا کی تھی۔

شامی ایوان صدر کے صفحے پر پوسٹ کی گئی تصاویر میں بشارالاسد ملک میں جاری تشدد کے واقعات میں مارے گئے افراد کے عزیز واقارب سے ملاقات کررہے ہیں۔ان میں سے ایک تصویر میں وہ بعض خاتون سے محو گفتگو ہیں۔

کیمیائی ہتھیار چلانے کی تحقیقات

درایں اثناء شامی حزب اختلاف کے قومی اتحاد (ایس این سی) نے بشارالاسد کی فوج پر حلب کے گاؤں میں کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عاید کیا ہے اور اس واقعہ کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ایس این سی ایک بیان میں کہا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک ٹیم متاثرہ گاؤں میں بھیجی جائے اور اس میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

شام کے باغی جنگجوؤں اور فوجیوں پر مشتمل جیش الحر نے گذشتہ روز شمالی شہر حلب میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کی ذمے داری قبول کرنے سے انکار کیا تھا۔ حلب میں جیش الحر کے ایک سنئیر کمانڈر قاسم سعدالدین نے ایک بیان میں کہا کہ ''منگل کی صبح ہمیں شامی فوج کے خان الاصل میں ایک حملے کا پتا چلا تھا۔انھوں نے کیمیکل ایجنٹس کا حامل ایک اسکڈ میزائل فائر کیا تھا۔پھر اچانک ہمیں پتا چلا کہ ہم پر اس حملے کا الزام عاید کیا جارہا ہے لیکن باغیوں کا اس حملے سے کوئی تعلق نہیں ہے''۔

قبل ازیں شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا اور سرکاری ٹیلی ویژن نے شامی باغیوں پر حلب کے اس علاقے پر راکٹ حملے میں کیمیائی ہتھیاراستعمال کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔اس حملے میں پچیس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔

شامی صدر بشارالاسد کی حکومت نے پہلی مرتبہ باغیوں پر کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔اس سے پہلے شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے باغی جنگجوؤں کے ہاتھ لگنے کی اطلاع سامنے نہیں آئی تھی۔البتہ امریکا اور اسرائیل اس خدشے کا اظہار کرتے رہتے ہیں کہ شام کے کیمیائی ہتھیار باغیوں کے ہاتھ لگ سکتے تھے۔

ادھر تہران میں صدر بشارالاسد کے اتحادی ملک ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمن پرست نے مسلح حزب اختلاف کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی مذمت کی ہے اور اسے ایک غیر انسانی اقدام قرار دیا ہے۔

ایس این سی کی رکنیت معطلی

شامی قومی اتحاد کے بارہ اہم ارکان نے استنبول میں عبوری وزیراعظم کے انتخاب کے ایک روز بعد ایس این سی میں اپنی رکنیت معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ان بارہ ارکان میں شامی قومی اتحاد کی نائب سربراہ سہیرعطاسی اور ترجمان ولید البونی بھی شامل ہیں۔

ان ارکان کے فیصلے کو شامی حزب اختلاف کے عبوری وزیراعظم کے انتخاب کا شاخسانہ قرار دیا جارہا ہے۔اپنی رکنیت منجمد کرنے والے ایک رکن لبوانی کا کہنا ہے کہ ان کا اتحاد ایک غیر منتخب ادارہ ہے۔اس لیے اس کے وزیراعظم کا اکثریتی ووٹ کی بنیاد پر نہیں بلکہ اتفاق رائے سے انتخاب کیا جانا چاہیے تھا۔تاہم بعض ارکان کا کہنا ہے کہ انھوں نے دیگر وجوہ کی بنا پر یہ فیصلہ کیا ہے۔

شامی حزب اختلاف کےاتحاد نے گذشتہ روز ایک معروف کاروباری شخصیت غسان ہیتو کو عبوری وزیراعظم منتخب کیا تھا۔قومی اتحاد کے استنبول میں منعقدہ اجلاس میں موجود اڑتالیس ارکان نے غسان ہیتو کے انتخاب کے لیے رائے شماری میں حصہ لیا تھا اور ان میں پینتیس نے ان کے حق میں ووٹ دیا اور تیرہ نے مخالفت کی ہے۔اتحاد کے تہتر میں سے پچیس ارکان نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا تھا۔

قومی اتحاد کا بند کمرے کا اجلاس چودہ گھنٹے تک جاری رہا تھا اور اس میں بعض ارکان نے غسان ہیتو کو مشترکہ امیدوار بنانے کی تجویز پیش کی تھی لیکن بعض دوسرے ارکان ان کے نام پرمتفق نہیں ہوئے اور اس کے بعد شفاف انداز میں بیلٹ باکس کے ذریعے ان کا انتخاب کیا گیا۔ان کی حمایت کرنے والوں میں اسلامی اور لبرل دونوں ارکان شامل تھے۔

شامی حزب اختلاف کے منتخب کردہ عبوری وزیراعظم کاروباری انتظام اور ہائی ٹیک اور ٹیلی کمیونیکشن کمپنیوں میں کام کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔انھوں نے اپنے انتخاب کے بعد کہا کہ وہ وسیع تر مشاورت کے بعد اپنے وزراء نامزد کریں گے اور صرف تجربہ کار لوگوں کو کابینہ میں شامل کیا جائے گا۔وہ شامی باغیوں کے زیرقبضہ علاقوں میں عبوری حکومت بنائیں گے۔وہ اب کابینہ تشکیل دیں گے اور شامی قومی اتحاد ایک مرتبہ پھر رائے شماری کے ذریعے اس نئی کابینہ کی منظوری دے گا۔