.

جان کیری کا فلسطینی معیشت کی بحالی کے لیے 4 ارب ڈالرز کا منصوبہ

منصوبے پرعمل درآمد اسرائیل ، فلسطین امن عمل پر پیش رفت سے مشروط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے بدحالی کا شکار فلسطینی معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے ایک معاشی منصوبے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت ان کے بہ قول فلسطینی علاقوں میں چار ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔

وہ بحیرہ مردار کے کنارے واقع اردن کے قصبے الشنح میں منعقدہ عالمی اقتصادی فورم کے اختتامی اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ''ہم سیاحتی تعمیرات میں قریباً چار ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کو متحرک کرنے کی کوشش کررہے ہیں''۔

قبل ازیں انھوں نے کہا کہ اس وقت ایک منصوبے پر کام کیا جارہا ہے جس کے تحت آیندہ تین سال کے دوران فلسطینی معیشت کی پچاس فی صد تک بڑھوتری ہوسکتی ہے۔اس کے تحت بے روزگاری کی شرح میں دوتہائی کمی واقع ہوگی اور اوسطاً اجرتیں چالیس فی صد تک بڑھ جائیں گے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ''اس منصوبے پر عمل درآمد کا انحصار اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کے لیے پیش رفت پر ہے''۔جان کیری سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر اور عالمی کاروباری شخصیات کے ساتھ مل کر فلسطینی معیشت کی بحالی کے اس منصوبے پر کام کررہے ہیں۔

انھوں نے اردن میں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے بارے میں منعقدہ عالمی اقتصادی فورم میں اس منصوبے کے حوالے سے گفتگو کی ہے۔اس موقع پر اسرائیلی صدر شمعون پیریز اور فلسطینی صدر محمود عباس بھی موجود تھے۔

انھوں نے ہفتے کے روز مصری صدر محمد مرسی سے ملاقات کی تھی اور ان سے مصر کی ڈگمگاتی معیشت کی بحالی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا تھا۔انھوں نے مصری صدر پر زور دیا کہ وہ اقتصادی اصلاحات کو جلد عملی جامہ پہنائیں تاکہ وہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے چار ارب اسّی کروڑ ڈالرز کا قرضہ حاصل کرسکیں۔انھوں نے کہا کہ امریکی کانگریس سے امداد کے حصول کے لیے بھی یہ اقتصادی اصلاحات ضروری ہیں۔

واضح رہے کہ مصر کی اسلامی حکومت آئی ایم ایف سے قرضے کے حصول کے لیے ان اقتصادی اصلاحات پر عمل درآمد میں پس وپیش سے کام لے رہی ہے اور وہ اپنے عوام پر ٹیکسوں کا مزید بوجھ نہیں لادنا چاہتی ہے۔ان اقتصادی اصلاحات میں ٹیکسوں کی شرح میں اضافے اور ایندھن پر دیے جانے والے زرتلافی کے خاتمے کی تجویز ہے۔

مصری حکومت کو خدشہ ہے کہ اگر اس نے ان اصلاحات پر عمل درآمد کیا تو اس سے ملک میں سماجی افراتفری پھیلے گی اور حکومت کے خلاف حزب اختلاف کی تحریک بھی زور پکڑ سکتی ہے جبکہ پہلے ہی صدر مرسی کی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔