.

شامی ہیلی کاپٹر کا لبنانی قصبے پر میزائل حملہ، متعدد افراد زخمی

سنی اکثریتی عرسال پر فضائی حملے میں انفرااسٹرکچر کو نقصان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے ایک ہیلی کاپٹر نے لبنان کے سرحدی قصبے عرسال پر تین میزائل داغے ہیں جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

ایک لبنانی عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ''شامی ہیلی کاپٹر نے بدھ کو دوپہر کے وقت تین میزائل فائر کیے ہیں، ان میں سے ایک قصبے کے مرکزی چوک کے نزدیک گرا ہے اور اس حملے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں''۔

لبنانی فوج نے ایک بیان میں شامی فضائیہ کے حملے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ عرسال پر دو راکٹ فائر کیے گئے ہیں۔اس حملے میں ایک شخص زخمی ہوا ہے اور قصبے کے انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے۔

واضح رہے کہ عرسال کی آبادی کی اکثریت اہل سنت پر مشتمل ہے اور وہ صدر بشار الاسد کے مخالف باغیوں کی حمایت کر رہے ہیں۔شام کے وسطی قصبے القصیر میں گذشتہ ہفتے سرکاری فوج اور حزب اللہ کے جنگجوؤں کے ساتھ لڑائی میں متعدد باغی جنگجو زخمی ہوکر اس قصبے میں پہنچے ہیں اور اس وقت وہ یہاں زیرعلاج ہیں۔

شام میں مارچ 2011ء سے جاری خانہ جنگی کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ صدر بشار الاسد کی فوج نے لبنانی قصبے پر فضائی حملہ کیا ہے۔قبل ازیں شامی فوج لبنانی علاقے کی جانب فائرنگ کرتی رہی ہے۔ عرسال دارالحکومت بیروت سے ایک سو چوبیس کلومیٹر شمال مشرق میں ضلع بعلبک اور بقاع گورنری میں واقع ہے۔