حزب اللہ نے تاخیر سے شام میں مداخلت کی ہے: حسن نصراللہ

امریکا اور اسرائیل شام سمیت پورے مشرق وسطیٰ کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کا کہنا ہے کہ ان کی جنگجو تنظیم نے شام میں ''تاخیر'' سے مداخلت کی ہے اور یہ مداخلت امریکا اور اسرائیل کے شام سمیت پورے مشرق وسطیٰ کو کنٹرول کرنے کے ''عالمی منصوبے'' کے ردعمل میں کی گئی ہے۔

حسن نصراللہ نے جمعہ کو ایک بیان میں اپنے تئیں ان الزامات کو مسترد کردیا ہے کہ ان کی ملیشیا شام میں فرقہ وارانہ جنگ کی قیادت کررہی ہے۔ان کے بہ قول:''شام میں تنازعہ عقیدوں یا شیعہ، سنی کے درمیان نہیں ہے بلکہ یہ دو مختلف منصوبوں کے درمیان ہے''۔ یہ ان کا موقف ہے وگرنہ اب شامی تنازعہ فرقہ وارانہ شکل اختیار کر چکا ہے۔

انھوں نے پان عرب ٹیلی ویژن چینل 'العربیہ' پر الزام عاید کیا ہے کہ یہ تنازعے سے متعلق نہ صرف نامکمل بلکہ جھوٹی معلومات دے رہا ہے۔ حزب اللہ کے سربراہ ماضی میں بھی 'العربیہ' پر تنقید کر چکے ہیں۔

انھوں نے پہلی مرتبہ یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ ان کے جنگجوؤں نے القصیر پر قبضے کے لیے شامی صدر بشارالاسد کی فورسز کی مدد کی ہے اور اب وہ اس تنازعے میں شریک رہیں گے۔انھوں نے کہا کہ ''ہم اپنے منصوبے کے مطابق آگے بڑھیں گے اور اس کے تمام نتائج بھگتنے کو تیار ہیں''۔

حزب اللہ کا پشتی بان ملک ایران بھی شامی صدر بشارالاسد کی کھلم کھلا عسکری اور سیاسی حمایت کررہا ہے جبکہ حسن نصراللہ کے اس بیان سے صرف ایک روز قبل ہی امریکا نے شامی باغیوں کو فوجی امداد اور مہلک ہتھیار مہیا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اوباما انتظامیہ نے یہ فیصلہ شامی فوج کی جانب سے باغیوں اور شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تصدیق ہونے کے بعد کیا ہے۔تاہم روس نے امریکا کی جانب سے مہلک ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق پیش کردہ انٹیلی جنس شواہد کو تسلیم نہیں کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں