.

مصر: اخوان المسلمون کے مرشد عام کی گرفتاری کا حکم

صفوت حجازی اور عصام العریان کے بھی وارنٹ گرفتاری جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری حکام نے اخوان المسلمون کے مرشدعام محمد بدیع سمیت دس کارکنان کی گرفتاری کا حکم دیا ہے۔ان پر لوگوں کو تشدد پر اکسانے کا الزام عاید کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں دو روز پہلے اخوان ہی کے پچاس سے زیادہ حامی مارے گئے تھے۔

پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اخوان کے مرشدعام محمد بدیع اور ان کے نائب محمود عزت کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے گئے ہیں۔ان کے علاوہ اخوان کے آٹھ اور کارکنان کو بھی حراست میں لینے کا حکم دیا گیا ہے۔

درایں اثناء مصر کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل نے اطلاع دی ہے کہ پراسیکیوٹر جنرل نے اخوان کے دو اور اعلیٰ عہدے داروں صفوت حجازی اور عصام العریان کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیے ہیں۔

قاہرہ میں سوموار کو ری پبلکن گارڈ کے ہیڈکوارٹرز کے باہر منتخب صدر محمدمرسی کی برطرفی کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین پر مسلح اہلکاروں کے حملے میں اخوان کے چون حامی ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوگئے تھَے۔واضح رہے کہ اخوان المسلمون اور دوسری اسلامی جماعتوں کے کارکنان تین جولائی کو منتخب صدر ڈاکٹرمحمد مرسی کی حکومت کا فوج کے ہاتھوں تختہ الٹنے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔محمد مرسی اپنی برطرفی کے بعد سے کسی نامعلوم مقام پر نظر بند ہیں۔

فوجی ہیڈکوارٹرز کے باہر فائرنگ کے اس واقعے کے بارے میں مصری فوج اور اخوان المسلمون نے الگ الگ موقف پیش کیا ہے۔فوج نے ''دہشت گردوں'' پر فائرنگ کا الزام عاید کیا ہے جبکہ اخوان المسلمون کے حامیوں سمیت عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ فوج نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے انتباہی فائر کیا تھا اور اشک آور گیس کے گولے پھینکے تھے لیکن سادہ کپڑوں میں ملبوس ''ٹھگوں'' نے پرامن مظاہرین کو اپنی گولیوں کا نشانہ بنایا تھا۔