.

حمد الشریف: حجر اسود اور خانہ کعبہ کا "گمنام محافظ"

تین دہائیوں سے اللہ کے مہمانوں کی خدمت میں سرگرم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خانہ کعبہ، حجراسود اورمسجد حرام کی حفاظت کا اعزاز تو بے شمار لوگوں کو حاصل ہوا ہوگا، لیکن کچھ لوگ اپنے خلوص نیت اور جذبہ خدمت انسانی کی بدولت گوشہ گمنانی میں رہتے ہوئے بھی وہ آفاقی شہرت حاصل کرلیتے ہیں جو خال خال ہی کسی کو نصیب ہوتی ہے۔

حمد الشریف غلاف کعبہ اور حجراسود کے ساتھ لپٹا ایسا ہی ایک گمنام سپاہی ہے جس نے اپنی زندگی کے 30 برس اسی خدمت میں گذاردیے ہیں۔ تیس سال کے بعد وہ ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکزبنا ہے۔ حمد الشریف کے لیے یہ اعزازبھی کم نہیں کہ اس نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ غلاف کعبہ اور حجراسود کے اتنا قریب گذارا کہ کوئی دوسرا شخص اس کا تصور بھی نہیں سکتا۔ شریف صرف حجراسود کی حفاظت ہی پرمامور نہیں بلکہ اس نے خود کو حجاج اورمعتمرین کا حقیقی خادم ثابت کیا ہے۔ عمر رسیدہ معتمرین اور حجاج کرام کی پکار پر فورا لبیک کہنا اس کا شعار رہا ہے۔

حجر اسود کا یہ گمنام محافظ پو پھوٹتے ہی باقاعدگی سے ڈیوٹی پر حاضرہوتا اور رات کی تاریکی چھا جانے کے بعد گھرلوٹتا ہے۔ عرصہ دراز سے یہ اس کا شب و روز کا معمول ہے۔ وہ حجر اسود یا غلاف کعبہ کے قریب محض اس لیے نہیں کھڑا ہوتا کہ وہ اس کی پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے بلکہ معمر معتمرین کی مدد اور حجراسود تک انہیں رسائی فراہم کرنا اپنے لیے باعث فخر سجھتا ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جس نے آج تک اس کام کو جاری رکھنے پرپابند کر رکھا ہے۔ دیگر سیکیورٹی اہلکاروں کی نسبت حجاج اور معتمرین حمد الشریف کے ساتھ جلد مانوس ہوجاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حجراسود کو چومتے ہوئے جس شخص نے بھی اسے دیکھا وہ اس کا گرویدہ ہوگیا۔