یمنی نوبل انعام یافتہ توکل کرمان کے مصر میں داخلے پر پابندی
قاہرہ کے ہوائی اڈے پر کچھ دیر زیرحراست رکھنے کے بعد واپس بھیج دیا گیا
مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے بین الاقوامی ائیرپورٹ پر حکام نے یمن کی نوبل امن انعام یافتہ توکل کرمان کو ملک میں داخل ہونے سے روک دیا ہے اور انھیں اسی پرواز سے واپس بھیج دیا ہے جس پر وہ سوار ہوکر آئی تھیں۔
توکل کرمان کے سرکاری ٹویٹر اکاؤنٹ پرپوسٹ کی گئی تحریر کے مطابق ''قاہرہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حکام نے نوبل انعام یافتہ کو واپس بھیج دیا ہے۔ انھیں ہوائی اڈے پر کچھ دیر کے لیے حراست میں رکھا گیا اور قاہرہ کے رابعہ العدویہ چوک کی جانب جانے روک دیا گیا جہاں برطرف صدر محمد مرسی کے حامیوں نے دھرنا دے رکھا ہے۔
فوری طور پر مصری حکام یا سرکاری خبررساں ایجنسی مینا نے انھیں واپس بھیجنے کی وجہ نہیں بتائی۔ البتہ مینا نے لکھا ہے کہ توکل کرمان نے برطرف صدر محمد مرسی کے حامیوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کیا تھا۔
واضح رہے کہ توکل کرمان نے اپنے آبائی ملک یمن میں سابق مطلق العنان صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک میں قائدانہ کردار ادا کیا تھا اور وہ مصر اور تیونس کی بہاریہ تحریکوں میں بھی پیش پیش رہی تھیں۔ انھیں ان کے اسی کردار کے اعتراف میں 2011ء میں نوبل امن انعام سے نوازا گیا تھا۔
یمن میں انھیں ''خاتون آہن'' اور''مادر انقلاب'' کے القابات سے پکارا جاتا ہے۔ وہ یمنی حزب اختلاف کی سرکردہ جماعت الاصلاح کی رکن ہیں۔ اسی جماعت کے ایک اور رکن عبدالمجید الزندانی کی وجہ سے اہل مغرب نے ناک بھنویں چڑھائی تھیں کیونکہ وہ القاعدہ کے مقتول سربراہ اسامہ بن لادن کے سابق مشیر رہے تھے اور امریکا انھیں دہشت گرد قرار دیتا ہے۔