.

بغداد میں پے درپے کار بم دھماکے،60 افراد جاں بحق

عراقی دارالحکومت کے ریستورانوں اور بازاروں میں شہریوں کو نشانہ بنایا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے دارالحکومت بغداد میں پے درپے دس کار بم دھماکوں میں ساٹھ افراد جاں بحق اور کم سے کم دوسو زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق بغداد کے جنوب مشرقی علاقے میں واقع بازار میں ہفتے کے روز غروب آفتاب سے چندے قبل سب سے تباہ کن کار بم دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں سات افراد ہلاک اور بیس زخمی ہوگئے۔

عراقی دارالحکومت کے دوسرے علاقوں میں حملہ آوروں نے کیفوں، بازاروں اور ریستورانوں میں پے درپے نو کار بم حملوں میں شہریوں کو نشانہ بنایا ہے اور ان بم دھماکوں میں پچاس افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہوگئے ہیں۔

بغداد سے ایک سو ستر کلومیٹر شمال میں واقع شہر طوزخرماتو میں ایک خودکش بمبار نے مصروف شاہراہ پر اپنی بارود سے بھری کار کو دھماکے سے اڑا دیا۔ اس واقعے میں دس افراد ہلاک اور پینتالیس زخمی ہوئے ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ خودکش بمبار کردوں کی ایک سیاسی جماعت کے مقامی ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنانا چاہتا تھا لیکن سخت سکیورٹی کی وجہ سے وہ اپنے ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہا اور اس نے شہر کی مصروف شاہراہ پر اپنی کار کو اڑا دیا۔

عراق میں رمضان المبارک کے دوران تشدد کے واقعات میں اضافے کے پیش نظرعیدالفطر کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے مگر اس کے باوجود عید الفطر کے ایام کے دوران دہشت گردی کی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ اس مرتبہ رمضان کے دوران عراق بھر میں تشدد کے واقعات میں 671 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور یہ 2007ء کے بعد ماہ مقدس میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔