.

کیمیائی حملہ بشار نے کیا": ایرانی سفیر اور حزب اللہ کمانڈر کا مُکالمہ

جرمن انٹیلی جنس نے اسد نواز رہ نماؤں کی کال ٹیپ کر لی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی کے انٹیلی جنس حکام نے شامی صدر بشارالاسد نواز ایرانی سفیر اور لبنانی شیعہ ملیشیا کے ایک کمانڈرکے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو ریکارڈ کی ہے۔

ٹیلیفونک مکالمے میں دونوں رہ نماؤں نے تسلیم کیا ہے کہ 21 اگست کو دمشق کے قریب مشرقی الغوطہ میں کیمیائی حملوں کا حکم براہ راست بشارالاسد کی جانب سے دیا گیا تھا۔ اس حملے میں ڈیڑھ ہزار افراد جان بحق اور سیکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔

جرمن اخبار"ڈراشپیگل" نے انٹیلی جنس حکام کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں ٹیلیفون پر بات کرنے والے ایرانی سفیر اور حزب اللہ کمانڈر کی شناخت تو نہیں بتائی، تاہم یہ ضرور بتایا ہے کہ حزب اللہ جنگجو کے پاس شام میں ہونے والے کیمیائی حملے کے بارے میں مفصل معلومات تھیں۔

انٹیلی جنس حکام کے مطابق ایرانی سفیرنے حزب اللہ رہ نما سے شام کی تازہ صورت حال کے بارے میں پوچھا تو اس کا کہنا تھا کہ "بشارالاسد ہوش وحواس کھو بیٹھے تھے۔ ان کی وفادار فوج مشرقی الغوطہ میں ایک سخت جنگ لڑ رہی تھی لیکن صدر نے باغیوں کو شکست دینے کے لیے ان پر اعصاب شکن ہتھیاروں کے استعمال کا حکم دیا، یہ ان کی ایک بڑی غلطی تھی۔ انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا"۔

رپورٹ کے مطابق حزب اللہ کمانڈر اپنی گفتگو میں جہاں کیمیائی حملے میں بشارالاسد کو مورد الزام ٹھہرا رہے تھے وہیں بار بار "غلطی" کا لفظ بھی دہرا رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بشارالاسد نے غلطی سے یہ احکامات دے دیے تھے حالانکہ وہ ایسا کرنا نہیں چاہتے تھے۔

خیال رہے کہ جرمن انٹیلی جنس ایجنسی کی جانب سے بشارالاسد کے خلاف یہ نئی رپورٹ ایک ایسے وقت میں دی ہے جب مغربی ممالک اور امریکا صدر بشارالاسد کو شہریوں پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے جرم میں سبق سکھانے کا پہلے ہی فیصلہ کرچکے ہیں۔ جرمن انٹیلی جنس اداروں کی یہ رپورٹ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے شام بارے موقف کو مزید تقویت فراہم کرے گی۔