.

تیونس: سابق وزیراعظم کا عبوری صدر سے استعفے کا مطالبہ

موجودہ حکومت کی وجہ سے مصر جیسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کے سابق وزیر اعظم باجی قائد السبسی نے عبوری صدر کے استعفا کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے اگر عبوری صدرالمرزوقی اپنے عہدے پر قائم رہے تو ایک غیر جانبدار حکومت بے فائدہ رہے گی۔ سابق وزیر اعظم نے یہ مطالبہ'' العربیہ ''کے ساتھ ایک انٹرویو میں کیا

عبوری صدر المرزوقی 23 اکتوبر 2011 کو ہونے والے انتخابات کے بعد اقتدار میں آئے تھے۔ تیونس کے سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا موجودہ اسلام پسند حکومت کے ساتھ ہی صدر کو اقتدار سے الگ ہو جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا '' ملک اس وقت ایسے بحران سے گذر رہا ہے جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی موجودہ حکومت کی ساکھ ختم ہو چکی ہے، اس حکومت کی وجہ سے ملک میں دہشت گردی پھیل گئی ہے۔''

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا '' موجودہ حکومتی پالیسیوں کی وجہ س ےمعیشت زبوں حالی کا شکار ہو گئی ہے اور 2014 کے سالانہ بجٹ میں پانچ ارب ڈالر کا خسارہ سامنے آیا ہے۔ حکومت کا اب برقرار رہنا عوامی خواہشات کے خلاف ہے، اس لیے حکومت اسی طرح اسلحے کا استعمال کر سکتی ہے جس طرح سابق صدر زید بن علی نے کیا تھا، جس کے نتیجے میں تیونس بھی مصر کیطرح کی پرتشدد صورت حال سے دو چار ہو سکتا ہے ۔''

واضح رہے تیونس کی اسلام پسند نہضہ پارٹی کے سر براہ راشدالغنوشی بھی اس سے قبل صدر سے مطالبہ کر چکے ہیں کہ اگر وہ دوبارہ انتخاب کے ذریعے صدارت چاہتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ مستعفی ہو جائیں، تاکہ تمام امیدواروں کو یکساں موقع فراہم ہو سکے اور صدر پر حکومتی وسائل اور اداروں کے ناجائز استعمال کا الزام نہ لگے۔