.

مصر: اخوان المسلمون کی سماجی سرگرمیوں پر پابندی

رجسٹرڈ این جی اوز کی فہرست سے "اخوان" کا نام خارج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں فوج کی نگرانی میں قائم عبوری حکومت نے اسلام پسند مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کے خلاف کارروائی کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے ملک میں رجسٹرڈ رفاہی اور امدادی اداروں کی فہرست سے بھی تنظیم کا نام خارج کر دیا ہے جس کے بعد جماعت ملک میں کسی قسم کی سماجی سرگرمیوں کے لیے بھی نا اہل قرار دی گئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصر کی عبوری کابینہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ وزارت برائے سماجی یکجہتی امور کے ہاں رجسٹرڈ اخوان المسلمون تنظیم کا نام ختم کردیا گیا ہے۔ اب اس نام سے ملک کی سرکاری این جی اوز میں کوئی تنظیم کام نہیں کرسکے گی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے سیاسی طور پر کالعدم قرار دی جانے والی جماعت کے خلاف اقدام آئین اور قانون کی بالا دستی اور عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے کیا ہے۔ قاہرہ کی ایک عدالت نے اپنے فیصلہ 2315 مجریہ 23 ستمبر2013ء کو حکومت کو اخوان المسلمون کا نام سرکاری سماجی اداروں کی فہرست سے نکالنے اور آئندہ اس تنظیم پر مکمل پابندی عائد کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالتی فیصلے میں حکومت سے کہا گیا تھا کہ وہ اخوان المسلمون تنظیم کی تمام املاک اور اثاثے بحق سرکار ضبط کرے اور جماعت کو ہر قسم کی سماجی سرگرمی سے سختی سے روک دے۔

رپورٹ کے مطابق قاہرہ کی دستوری عدالت کے فیصلے پرعمل درآمد کے حوالے سے عبوری حکومت کی سیکیورٹی کمیٹی کا اجلاس وزیراعظم کی زیر صدارت منعقد کیا گیا۔ اجلاس میں وزیر برائے ہائر ایجوکیشن، سیاحت، صنعت وتجارت، داخلہ، قانون انصاف دفاعی امور اور وزیر برائے سماجی امور نے شرکت کی۔

اجلاس میں اخوان المسلمون کی سماجی تنظیم کو ملکی قومی فلاحی اداروں کی فہرست سے خارج کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر برائے سماجی بہود احمد البرعی نے کہا کہ "حکومت سیاہ دہشت گردی کی کسی قیمت پراجازت نہیں دے گی اور پیش آئند ایام میں شدت پسندوں کے خلاف طاقت کے استعمال میں اضافہ کیا جائے گا"۔

ایک سوال کے جواب میں مصری وزیر کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کا اطلاق اخوان المسلمون کی سیاسی جماعت "آزادی وانصاف" پرنہیں ہوگا۔ اس فیصلے کی رو سے اخوان کی سماجی حیثیت ختم کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اخوان المسلمون آرگنائزیشن کا مقطم شہرمیں صرف ایک ہی دفتر تھا جسے قبضے میں لے لیا گیا ہے۔ اگلے مرحلے میں تنظیم کے دیگر اثاثوں کی چھان بین اور ضبطی کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔