.

شام میں جنگی جرائم کا نوٹس لیا جائے: سعودی قرارداد

مسودہ قرارداد پر اسی ہفتے کے دوران ووٹنگ کا امکان ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے ایک مرتبہ پھر اس امر پر زور دیا ہے کہ عالمی ادارہ شام میں انسانیت کے خلاف جنگی جرائم کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔ یہ مطالبہ سعودی عرب کی طرف سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کیلیے تیار کردہ قرار داد کے مسودے میں کیا گیا ہے۔

مسودہ قرارداد جس پر ماہ نومبر کے پہلے ہفتے مین کارروائی ہو سکتی ہے اس میں سعودی عرب نے سلامتی کونسل سے بھی توقع کی ہے کہ شام میں جنگی جرائم کا نوٹس لیتے ہوئے اس کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی۔

مسودہ قرارداد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شامی رجیم کی طرف سے انسانی بنیادوں پر شام آنے والی امداد پر عاید کردہ پابندی ختم کرائی جائے، جنگ زدہ شامی عوام کیلیے ریلیف کی سرگرمیوں کی اجازت ممکن بنائی جائے اور ان تمام قیدیوں کی رہائی ممکن بنائی جائے جنہیں شامی رجیم نے ظالمانہ طریقے سے قید میں ڈال رکھا ہے۔

سعودی عرب نے اس امر پر بھی زور دیا ہے کہ شام کو کیمیائی ہتھیار ختم کرنے سے متعلق سلامتی کونسل کی قرار داد کی پابندی پر مجبور کیا جائے۔

سعودی عرب نے اس مسودہ قرارداد میں شام کے عوام کے خلاف لڑنے والے جنگجووں خصوصا حزب اللہ وغیرہ کی مذمت کی ہے۔ واضح رہے کہ شامی رجیم اور اس کے حامی کی وجہ سے اب تک شام میں ایک لاکھ سے زاید افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کی سوشل، انسانی حقوق کمیٹی اور کلچرل کمیٹی نے مشترکہ طور یہ مسودہ تھرڈ کمیٹی کو بھجوا دیا ہے، تاکہ اس بنیادی انسانی حقوق سے متعلق معاملے پر مزید کارروائی آگے بڑھے۔

اقوام متحدہ کے بارے میں سعودی عرب کے حالیہ دنوں سامنے آنے والے خیالات کے بعد یہ ایک اہم پیش رفت ہو سکتی ہے بشرطیکہ اس مسودہ کو منظور کر کے اس کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔