.

ایران، حزب اللہ شامی عوام کے قتل عام میں ملوث ہیں: اخوان

"اخوان المسلمون شام میں تنہا اقتدار پر قبضہ نہیں کرے گی"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں اخوان المسلمون کے سربراہ محمد ریاض الشقفہ نے اپنے ملک میں جاری خون خرابے اور نہتے شہریوں کے قتل عام کی ذمہ داری ایران اور لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ پرعائد کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فلسطین کی آزادی کے علم بردار شام میں نسل کشی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ میرا مطالبہ ہے کہ ایران اور حزب اللہ شام کی جنگ سے فوری طورپر نکل جائیں۔

شامی اخوان کے سربراہ نے ان خیالات کا اظہار"العربیہ " ٹی وی کی نامہ نگار ریما مکتبی سے خصوصی گفتگو میں کیا۔ انہوں نے ایران اور حزب اللہ پر شام کی جنگ میں شامل ہونے کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ شام سے نکل جائیں ورنہ شامی عوام انہیں ذلت کے ساتھ نکال باہر کریں گے۔

محمد ریاض الشقفہ کا کہنا تھا کہ جو ملک اور تنظیمیں صدر بشارالاسد کی حمایت اور مدد کر رہی ہیں وہ شامی عوام کے قتل عام کے جرم میں برابر کی شریک ہیں۔ ایران خود کو ایک انقلابی ریاست باور کراتا ہے لیکن وہ بشارالاسد کے خلاف عوامی انقلاب کو طاقت کے ذریعے کچلنے میں مدد بھی کر رہا ہے۔

"ہمارے نزدیک شام میں کشت وخون کی جتنی ذمہ داری بشارالاسد پرعائد ہوتی ہے۔ اتنی ہی ایران اور حزب اللہ پر بھی عائد ہوتی ہے۔ حزب اللہ فلسطین کی آزادی کی علمبردار سمجھی جاتی ہے لیکن وہ قتل عام شامی شہریوں کا کر رہی ہے۔ حسن نصراللہ فلسطینیوں کی جنگ شام میں لڑ رہے ہیں۔"

شامی اخوان رہ نما نے حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ اور ایرانی مرشد اعلیٰ کو"مجرم" قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی رہبرانقلاب دنیا بھر کے اہل تشیع کو شامی عوام کے کشت و خون کی ترغیب دے رہے ہیں۔ مرشد اعلیٰ کی براہ راست کمان میں ایک مسلح تنظیم شام میں باغیوں کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے۔ یوں ایرانی سپریم لیڈر معصوم شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث ہے۔

شام کے محاذ جنگ پر ہونے والی پیش رفت کے بارے میں سوال کے جواب میں اخوان المسلمون کے سربراہ نے کہا کہ "انقلابیوں اور بشارالاسد کے وفاداروں کے مابین جنگ بھرپور طریقے سے جاری ہے لیکن جیش الحرکو تمام محاذوں پر سبقت حاصل ہے اور وہ پیش قدمی کرر ہی ہے۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں اخوان لیڈر کا کہنا تھا کہ ہم تمام باغی عسکری گروپوں اور جیش الحر کو ایک دھارے میں لانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ میں ذاتی طور پر کسی ایک گروپ کے نام سے تنظیم کے قیام کا حامی نہیں ہوں اور نہ ہی کوئی تنظیم اخوان المسلمون کی ترجمانی کرے گی۔

"ہم وطن کی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اخوان نے اپنے نام سےکوئی تنظیم قائم نہیں کی لیکن اپنے نوجوانوں کو لڑائی میں شامل ہونے سے روکا بھی نہیں ہے۔ ہم اعتدال پسند عسکری تنظیموں کی حمایت کریں گے، لیکن مخصوص اور غیر ملکی مقاصد کے لیے کام کرنے والے گروپوں سے کوئی تعاون نہیں کیا جائے گا۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں ریاض الشقفہ نے کہا کہ شام کی اخوان المسلمون کا طریقہ کار مصری اخوان سے مختلف ہے۔ اخوان تنہا شام کے اقتدار کی خواہاں نہیں ہے بلکہ تمام نمائندہ قومی دھاروں کو ساتھ لے کرچلنے کی حامی ہے۔