.

صرف سختی امریکی سلامتی کی ضامن نہیں ہو سکتی: اوباما

ایران نے معاہدے پر عمل کیا تو برسوں کا عدم اعتماد ختم ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر اوباما نے ایران کے ساتھ کیے گئے معاہدے اور ایران سے متعلق اوباما کی انتظامیہ کی نئی اپروچ کو امریکی سلامتی کیلیے ضروری قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ صرف سخت مذاکرات امریکا کی سلامتی کے ضامن نہیں ہو سکتے۔

جنیوا میں طے پانے والے معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے صدر اوباما نے کہا '' غیر معمولی چیلنج باقی ہیں لیکن سفارتی دروازہ بند نہیں کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ہم دنیا کے مسائل کا پر امن حل نظر انداز کر سکتے ہیں۔''

انہوں نے ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے جنیوا میں ہونے والے ابتدائی معاہدے کو پیش رفت قرار دیا۔ عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ری پبلکن پارٹی نے جنیوا میں ایران کے ساتھ کیے گئے اس معاہدے پر تنقید کی ہے۔ جس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکا جائے گا اور ایران کی طرف سے جوہری پروگرام کو روکے جانے کی ابتدائی یقین دہانی کے باعث اس پر عائد پابندیاں نرم کی جا رہی ہیں۔

امریکا کے ایک اہم اتحادی اسرائیل نے بھی جنیوا میں ہونے والی اس ''پیش رفت '' کو قبول نہیں کیا ہے اور اسے تاریخی غلطی کا نام دیا ہے۔جبکہ صدر اوباما کا کہنا ہے کہ '' اگر ایران اس معاہدے کی پابندی کرتا ہے تو یہ برسوں پر پھیلی بد اعتمادی کو ختم کرنے کا ذریعہ بنے گا۔''