.

شام کو بڑا صومالیہ بننے سے بچایا جائے: الاخضر ابراہیمی

سعودی عرب اور ایران کے جنیوا ٹو میں شریک ہونیکی توقع کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کیلیے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی نمائندے الاخضر ابراہیمی نے شامی تنازعے کے حل پر زور دیا ہے تاکہ شام کو ایک بڑا صومالیہ بننے سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار ایک سوئس ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے نے خبردار کیا شام میں وار لارڈز جیسی صورتحال پیدا ہو چکی ہے، ایک تباہ حال ریاست کی خالی ہونے والی جگہ کو ان جنگجو گروپوں نے پر کر دیا ہے۔''

انہوں نے شام میں نئی حکومت کی تشکیل کی حمایت کی اور کہا شام کے لوگ اپنے ملک کو ایک نئی شکل میں دیکھنا چاہتے ہیں۔

الاخضر ابراہیمی کا کہنا تھا '' میری عاجزانہ رائے کے مطابق شام کے عوام کو ایک نئی جمہوری نظام کی طرف بڑھنا چاہیے۔'' ان کا کہنا تھا ''ایک ایسی جمہوریہ جس میں فرقہ واریت نہ ہو ، جس کا دروازہ ایک مکمل نِئی جمہوریہ کی طرف کھلتا ہو۔''

عالمی سفارتکار کا کہنا تھا '' یہ شامی عوام ہی ہیں جنہوں نے مستقبل کے شام کی تشکیل کرنی ہے، اور انہیں ہی فیصلہ کرنا ہے کہ اس میں نظام کونسا ہو گا۔''

دریں اثناء الاخضر ابراہیمی نے شام میں امن کیلیے امکانی جنیوا ٹو مذاکرات میں سعودی عرب اور ایران کی شرکت کے بارے میں امید کا اظہار کیا۔ جنیوا ٹو کانفرنس اگلے ماہ جنوری میں ہو گی۔