.

"ایران اہل سنت والجماعت کوشیطان اکبر قرار دیتا ہے"

لبنانی عالم دین کی"العربیہ" کے پروگرام میں گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے ایک ممتازعالم دین علامہ الشیخ سالم الرافعی نے ایران میں اہل سنت مسلک کے پیروکاروں سے امتیازی سلوک روا رکھنے کی شدید مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تہران، اہل سنت مسلک کے لوگوں کو"شیطان اکبر" سمجھتا ہے۔ اس لیے سنی مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔

الشیخ سالم الرافعی نے ان خیالات کا آظہار "العربیہ" نیوز چینل کے فلیگ شپ پروگرام "پوائنٹ آف آرڈر" میں گفتگو کے دوران کیا۔ انہوٓں نے استفسار کیا کہ اگر لبنان میں اہل تشیع اور ایران نوازوں کی جانب سے سنی مسلک کے پیرو کاروں اور مسیحی برادری کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم نہیں کیے جا سکتے ہیں تو ایران میں ایسا کیوں کر ہو سکتا ہے؟۔

خیال رہے کہ علامہ الرافعی لبنان کے سرکردہ سنی عالم دین اور شمالی شہر طرابلس کی جامع مسجد التقویٰ کے امام اور خطیب بھی ہیں۔ گذشتہ اگست میں ان کی مسجد کے باہرایک دھماکہ بھی ہوا تھا جس کے نتیجے میں مسجد متاثر ہوئی تھی۔

ایک سوال کے جواب میں الشیخ رافعی نے تہران کے جوہری تنازع کے حوالے سے امریکا ۔ ایران ڈیل پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ "میرا خیال ہے کہ ایران، اہل سنت والجماعت مسلک کو کسی قیمت پر قبول نہیں کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ایرانیوں نے امریکا اور اہل سنت دونوں کو "شیطان اکبر" قرار دے رکھا ہے۔ امریکا کو ایران میں برائے نام ہی اپنا دشمن اور"شیطان اکبر" قرار دے رکھا ہے، ان کا اصل ہدف اہل سنت کے ملکوں پر قبضہ کرنا ہے۔

الشیخ الرافعی سے جب پوچھا گیا کہ کیا وہ شام کے محاذ جنگ میں غیرملکیوں کی شمولیت کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ تو ان کا کہنا تھا کہ "یہ بات میری سمجھ سے باہر ہے کہ لوگ حزب اللہ کے ہزاروں جنگجوؤں کو شام میں بشار الاسد کی حمایت میں لڑنے کے معاملے کو اتنا معمولی کیوں سمجھتے ہیں۔ کیا یہ لوگ رات دن شام کا سفر نہیں کر رہے اور کیا ان کے ہاتھوں نہتے لوگ قتل نہں ہو رہے ہیں؟ بدقسمتی سے لبنانی شیعہ ملیشیا کے جنگجو ہماری فوج کے سامنے سرحد پار کرتے ہیں لیکن فوج صرف باغیوں کی حمایت میں لڑنے والوں کو بیرون ملک سفر سے روکتی ہے"۔

اسی سوال کو آگے بڑھاتے ہوئے الشیخ رافعی نے کہا کہ جب عالمی برادری اپنا کردار ادا نہیں کرے گی تو جہادی عناصر کو موقع ملے گا۔ عالمی برادری نے آج تک شامی عوام کے بارے میں کیا کیا ہے۔ بشار الاسد اور ان کی وفادار قوتوں نے ایک لاکھ شہری قتل کر دیے ہیں۔ عالمی طاقتیں اورمغربی دنیا کے نزدیک اس کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں علامہ الرافعی کا کہنا تھا کہ شام کے محاذ جنگ میں اعتدال پسند گروہ بھی لڑ رہے ہیں۔ یہ تاثرغلط ہے کہ باغیوں کو القاعدہ کی تنظیم" دولت عراق و شام" نے یرغمال بنا رکھا ہے۔ عمالہ الرافعی کے بہ قول جب لبنان میں ہمارے سنی بھائیوں پر ظلم ہوگا تو ہم لا محالہ اپنے شامی بھائیوں کو مدد کے لیے پکاریں گے اور جب انہیں ضرورت پڑے گی تو ہم ان کی حمایت میں بھی جنگ لڑیں گے۔

لبنانی عالم ین نے انکشاف کیا کہ شامی حکومت لبنان میں سنی مسلک سے تعلق رکھنے والے وزیر داخلہ مروان شربل کا نیا سیکیورٹی پلان ناکام بنانے کی سازش کر رہی ہے۔ انہوں نے لبنانی فوج پر بھی تنقید کی اور کہا کہ فوج اہل سنت، اہل تشیع اور مسیحی برادری کو لڑانے کی خود سازشیں کرتی ہے۔