.

قطر کا امدادی تیل، غزہ میں بجلی بحال ہونیکی امید

قطر طوفان متاثرین کیلیے پانچ ملین ڈالر بھی دے گا: اسماعیل ہنیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے قطر کی طرف سے امداد کے طور پرمحاصر زدہ اہل غزہ کیلیے آنے والے 450000 لیٹر تیل کی غزہ منتقلی کی اجازت دے دی ہے۔ اس تیل کی آمد سے سردی کی لہر کی زد میں بے حال غزہ کے عوام کیلیے قائم پاور پلانٹ پھر سے آپریشنل ہو سکے گا۔

چوالیس روز قبل ایندھن کی عدم دستیابی سے پاور پلانٹ بند ہو جانے سے غزہ کی اٹھارہ لاکھ آبادی کو بارہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے۔ پاور پلانٹ کی بندش کی تازہ وجہ مصر کی عبوری حکومت کی طرف سے زیر زمین راستوں کی بندش بنی ہے۔

پاور پلانٹ کی بندش سے ہسپتالوں میں علاج معالجہ کی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ جبکہ غزہ میں زندگی مجموعی طور پر مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔

قطر حکومت کی جانب سے بھیجے گئے تیل کی بنیاد پر توقع کی جا رہی ہے کہ پاور پلانٹ دن بھر چلایا جا سکے گا۔ غزہ انرجی اتھارٹی کے ذمہ دار احمد العمرین کا کہنا ہے '' اس تیل کی آمد پر ہم اس پوزیشن میں آ جائیں گے کہ پہلے والے نظام الوقات کے مطابق پلانٹ کو چلا سکیں۔''

واضح رہے قطر نے یہ تیل غزہ حکومت کی اپیل کے جواب میں بھیجا ہے۔ اس سے پہلے چار دن کی بارشوں کے نتیجے میں غزہ کے دو شہری جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ پانچ ہزار افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔

قطر حکومت غزہ میں 450 ملین ڈالر کی رقم تعمیراتی منصوبہ پر خرچ کر رہی ہے۔ اسی طرح مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کو بھی دس ملین ڈالر دے گی۔

واضح رہے حماس اور اسرائیل کے درمیان براہ راست کوئی لین دین یا معاملہ نہیں ہے۔ حماس اسرائیل کو ایک ناجائز ریاست سمجھتی ہے۔

غزہ میں حماس حکومت کے وزیراعظم اسماعیل ہنیہ کا کہنا ہے کہ قطر کی جانب سے تیل بردار جہاز بھی بھیجا جا رہا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ قطر حکومت حالیہ دنوں میں آنے والی طوفانی بارشوں سے متاثرہ افراد کیلیے ابتدائی طور پر پانچ ملین ڈالر فراہم کرے گا۔