.

یمن: ارکان پارلیمان کا امریکی ڈرون حملے روکنے کا مطالبہ

پارلیمان میں منظور کردہ قرارداد میں یمن کی علاقائی خود مختاری کے احترام پر اصرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی پارلیمان نے ایک قرارداد کے ذریعے ملک میں القاعدہ کے جنگجوؤں کے خلاف بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں کے میزائل حملے روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

سرکاری خبررساں ایجنسی سبا کی رپورٹ کے مطابق ارکان پارلیمان نے اپنی منظورکردہ قرارداد میں کہا ہے کہ یمن کی علاقائی خود مختاری کا احترام کیا جائے اور ڈرون حملوں میں بے گناہ انسانی جانوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ بند کیا جائے۔تاہم یہ ایک غیر پابند قرارداد ہے اور یمنی صدر اس کو مسترد کرسکتے ہیں۔اس لیے اس کی اہمیت حکومت کے لیے ایک سفارش کے سوا کچھ نہیں ہے۔

واضح رہے کہ امریکا کے خفیہ ادارے سی آئی اے نے یمن میں جزیرہ نما القاعدہ کے جنگجوؤں کے استیصال کے لیے بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں سے ڈرون حملے تیز کررکھے ہیں۔امریکا کا کہنا ہے کہ مختلف ممالک میں اس کا ڈرون پروگرام القاعدہ کے جنگجوؤں کے خاتمے میں کامیاب رہا ہے۔ امریکی سی آئی اے یمن کے علاوہ پاکستان کے شمال مغربی پہاڑی علاقوں میں بھی القاعدہ اور طالبان جنگجوؤں کے خلاف ڈرون حملے کررہی ہے۔

بعض یمنیوں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا نے القاعدہ کے جنگجوؤں کے خلاف ڈرون حملے نہ کیے ہوتے تو وہ ملک کے مزید علاقوں پر قبضہ کر لیتے۔یمنی وزیرخارجہ ابوبکرالکربی نے ستمبر میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ڈرون حملے ایک ''ناگزیر برائی''اور''بہت محدود معاشقہ'' ہیں جو یمنی حکومت کے ساتھ رابطے کے ذریعے کیے جارہے ہیں۔

تاہم بعض یمنیوں اور بعض امریکی سیاست دانوں کا کہنا ہے کہ ڈرون حملوں میں شہریوں کی ہلاکتوں سے جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے لیے ہمدردی کے جذبات پیدا ہورہے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ امریکا مخالف جذبات کو بھی انگیخت مل رہی ہے۔

گذشتہ جمعرات کو وسطی صوبے البائدہ میں ایک فضائی حملے میں شادی میں شرکت کے لیے جانے والے پندرہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔یمنی حکومت نے ایک بیان میں کہا تھا کہ فضائی حملے میں القاعدہ کے سینیر جنگجوؤں کو نشانہ بنایا گیا تھا لیکن اس نے بیان میں شہریوں کی ہلاکتوں کا کوئی حوالہ نہیں دیا تھا۔