مجوزہ فلسطینی ریاست میں اسرائیلی فوج کی موجودگی کی تجویز مسترد

تجویز اسرائیل کی وسیع تر سلامتی کے تناظر میں دی تھی: جان کیری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

عرب لیگ نے مستقبل میں وجود میں آنے والی فلسطینی ریاست کی حدود میں اسرائیلی فوجیوں کی موجودگی کی امریکی تجویز یکسر مسترد کر دی ہے۔ عرب لیگ کا کہنا ہے کہ فلسطینی ریاست کی حدود میں اسرائیل کا ایک سپاہی بھی قابل قبول نہیں ہو گا۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی"رائیٹرز" کے مطابق عرب لیگ کے ہفتے کے روز قاہرہ میں ہوئے اجلاس میں فلسطین ۔ اسرائیل امن بات چیت میں ہونے والی پیش کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی جانب سے مجوزہ فلسطینی ریاست کی حدود میں اسرائیلی فوجیوں کی موجودگی کی تجویز پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ اجلاس نے متفقہ طور پر جان کیری کی یہ تجویز مسترد کر دی۔

خیال رہے کہ فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان پچھلے پانچ ماہ سے بند کمرے میں جاری مذاکرات میں فلسطینی ریاست کے خدوخال کے بارے بات چیت جاری ہے۔ امریکا نے کسی حتمی سمجھوتے تک پہنچنےکے لیے فریقین کو نو ماہ کی ڈیڈ لائن دے رکھی ہے، تاہم جان کیری کی تجویز کے مسترد ہونے کے بعد امن عمل کو ایک نئے چیلنج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ اسرائیل فلسطینی ریاست کے وجود کے بارے میں بہت سے سیکیورٹی خدشات رکھتا ہے۔ صہیونی حکومت مستقبل کی فلسطینی ریاست کی سرحدوں پراپنی فوج کی تعیناتی پرمُصِر ہے۔

قاہرہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےعرب لیگ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر نبیل العربی نے کہا کہ "مستقبل کی فلسطینی ریاست میں اسرائیل کا ایک فوجی اہلکار بھی قبول نہیں ہو گا"۔ تاہم اجلاس کے آخر میں جاری اعلامیہ نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف تنقیدی پیرا گراف شامل نہیں کیے گئے جبکہ اجلاس سے قبل شرکاء میں تقسیم ایک رپورٹ میں امن عمل سبوتاژ کرنے پر اسرائیل کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

اجلاس سے قبل پیش کردہ رپورٹ میں امریکی وزیرخارجہ جان کیری کی وہ تجویز بھی شامل تھی جس میں ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی ریاست کی وسیع تر سیکیورٹی کے تناظر میں وادی اردن میں صہیونی فوجیوں کی موجودگی اہمیت کی حامل ہو گی۔ امریکا اسرائیل کے اس مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے فلسطینی ریاست کے اندر آنے والے بعض علاقوں میں اسرائیلی فوجیوں کی موجودگی کی تجویز دیتا ہے۔

اعلامیے میں امریکی وزیر خارجہ کی تجویز یکسر مسترد کردی گئی ہے۔ اعلامیے میں لکھا ہے کہ اس نوعیت کی تجاویز سے مسئلے کےغیر مشروط اور منصفانہ حل سے متعلق امریکی موقف میں تبدیلی دکھائی دے رہی ہے جو کہ قابل قبول نہیں ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ برس جولائی میں امریکا نے فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کو یہ کہہ کراسرائیل سے مذاکرات پر آمادہ کیا تھا کہ وہ تل ابیب کو غیر مشروط طور پر فلسطینی ریاست کے قیام پر آمادہ کرے گا۔

درایں اثناء فلسطینی حکومت کے ایک مصدقہ ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ امریکا نے فلسطینی ریاست کے قیام کے بعد اس کے حصے میں آنے والے علاقے وادی اردن میں کم از کم دس سال تک اسرائیلی فوج کی موجودگی کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وادی اردن اسرائیل کی سلامتی کے لیے اہم دفاعی لائن ہے۔ اگر یہاں پر اسرائیل کا سیکیورٹی کنٹرول ختم ہو گیا تو بیرون ملک سے فلسطینی مزاحمت کار اس راستے اسلحہ اسمگل کرنا شروع کر دیں گے۔

اجلاس سےخطاب کرتے ہوئے فلسطینی صدر محمود عباس نے بھی وادی اردن کی سرحد پر اسرائیلی فوجیوں کی موجودگی سے متعلق تجویز مسترد کردی، تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ وادی اردن میں امریکی یا عالمی امن فوج کی تعیناتی کی تجویز قبول کر سکتے ہیں۔

ادھر فلسطین ۔ اسرائیل امن مذاکرات کے نگران امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا نے عرب لیگ کے فیصلے پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ وادی اردن میں اسرائیلی فوجیوں کی تعیناتی کی تجویز اسرائیل کی وسیع تر سلامتی کے تناظر میں دی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ"میں نے فریقین کے سامنے کچھ تجاویز رکھی تھیں جن میں دونوں ریاستوں کی سیکیورٹی سے متعلق تجاویز بھی شامل تھیں، تاہم انہوں نے ان تجاویز کی تفصیلات نہیں بتائیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں