مصری وزارت داخلہ پر حملہ انصار بیت المقدس نے کیا

عسکری گروپ نے ذمہ داری ٹوئٹر پر قبول کی ہے: آن لائن مصری میڈیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر میں عسکری کارروائیاں کرنے والے گروپ '' انصار بیت المقدس نے منگل کے روز منصورہ شہر میں سکیورٹی ادارے کی عمارت پر کار بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ پچھلے پانچ چھ ماہ کے دوران یہ بدترین کار بم دھماکہ تھا، جس کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک جبکہ ایک سو کے قریب افراد زخمی ہو گئے تھے۔

مصری آن لائن میڈیا میں انصار بیت المقدس کے ٹوئٹر پیغام کے حوالے شائع ہونے والی خبر میں کہا گیا '' وزارت داخلہ پر حملہ کی کارروائی اللہ کا شکر ہے کامیاب رہی۔''

واضح رہے اس بدترین دھماکے کے بعد منگل ہی کے روز مصر کی عبوری کابینہ کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں معزول کیے گئے صدر محمد مرسی کی حامی جماعت اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا گیا تھا، تاہم اخوان المسلمون نے اس دھماکے کی مذمت کی تھی۔

عبوری صدر عدلی منصور نے اس واقعے پر تین دن کے سوگ کا اعلان کرنے کے علاوہ سانحے کا ذکر کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ اس طرح کے واقعات سیاسی عمل کا راستہ نہیں روک سکتے۔ جس کے پہلے مرحلے پر ماہ جنوری میں نئے مسودہ دستور پر عوامی ریفرنڈم متوقع ہے۔

اخوان المسمون اور اس کی اتحادی جماعتوں نے اس دھماکے کی ذمہ داری حسنی دور کی سکیورٹی رجیم پر عاید کرتے ہوئے کہا تھا کہ مرسی کی برطرفی کے بعد عبوری حکومت نے حسنی رجیم کے اہلکاروں کو دوبارہ اپنی ذمہ داریوں پر واپس بلا لیا ہے۔

اس سے پہلے 2011 میں سکندریہ میں قبطی گرجا گھر پر بھی حملے کا الزام بھی اسی طرح حسنی مبارک کی سکیورٹی رجیم پرآیا تھا۔ اس حوالے سے متعدد رپورٹس میں حسنی مبارک کے دور کے وزیر داخلہ حبیب ابراہیم العدلی کا نام زیر بحث آیا تھا۔

منصورہ میں وزارت داخلہ کی عمارت پر حملے سے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عسکری کارروائیوں کا رخ سینائی سے وادی نیل کی گنجان آبادیوں کی طرف ہو رہا ہے۔ خیال رہے مرسی کی برطرفی سے اب تک 200 سکیورٹی اہلکاروں کے مختلف واقعات میں مارے جانے کی اطلاع ہے۔

مصر کے عبوری وزیر داخلہ محمد ابراہیم کا کہنا ہے کہ '' ہمیں ایک ایسے دشمن کا سامنا ہے جس کا کوئی مذہب اور کوئی قومیت نہیں ہے۔'' ئے گا سرکاری ٹی وی کے مطابق دہشت گردی سے نمٹنے کیلے سکیورٹی اہلکاروں کو جان لیوا ہتھیاروں کے استعمال کی اجازت دے کر تعینات کیا جائے گا ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں