.

حزب اللہ مخالف اتحاد لبنان کو مسلح گروپ سے پاک کرنے کا خواہاں

سابق وزیراعظم سینورا کا عوام سے مل کر شیعہ ملیشیا کے خلاف پُرامن مزاحمت کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے شیعہ تنظیم حزب اللہ مخالف اتحاد کے لیڈروں نے ملک کو اس مسلح ملیشیا کے ہتھیاروں سے پاک کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

14مارچ اتحاد کے رکن اور سابق وزیراعظم فواد سینورا نے بیروت میں اتوار کو نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ ''ہم نے ملک کو غیر قانونی ہتھیاروں کے قبضے سے آزاد کرانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اس کی آزادی ،خودمختاری اور شہری امن کو برقرار رکھاجاسکے''۔

وہ اتحاد کے ایک اور رکن مقتول محمد شطح کی تدفین کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے۔وہ بیروت کے وسط میں جمعہ کو چھے اور افراد سمیت ایک بم دھماکے میں مارے گئے تھے۔14 مارچ اتحاد کے ارکان نے شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور شام پر اس بم دھماکے کا الزام عاید کیا ہے۔

فواد سینورا نے کہا کہ ''ہم نے لبنانی عوام کے ساتھ مل کر پُرامن ،سول اور جمہوری مزاحمت کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور بہت جلد پُرامن جنگ کا آغاز ہوگا''۔البتہ اںھوں نے اپنی اس مجوزہ تحریک کی مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی۔

انھوں نے کہا کہ ہم آزادی اور انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں،ہم جھکیں گے نہیں اور نہ اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹیں گے۔ان کے ارد گرد موجود سوگوار کا اجتماع اس موقع پر حزب اللہ کے خلاف نعرے بازی کررہا تھا اور وہ کہہ رہا تھا کہ حزب اللہ اللہ کی دشمن اور دہشت گرد ہے۔

محمد شطح کے قتل سے 2005ء سے 2012ء کے درمیان لبنان میں شامی صدر بشارالاسد کے مخالف سیاست دانوں کی ہلاکتوں کی تکلیف دہ یادیں تازہ ہوگئی ہیں۔لبنان میں سیاسی قتلوں کا آغاز 14 فروری 2005ء کو بیروت میں تباہ کن بم دھماکے میں سابق وزیراعظم رفیق حریری کی ہلاکت سے ہوا تھا۔

محمد شطح مقتول رفیق حریری کی حکومت میں وزیرکی حیثیت سے شامل رہے تھے اور بعد میں وہ ان کے بیٹے سابق وزیراعظم سعد حریری کے مشیر بھی رہے تھے۔حزب اللہ اور شامی حکومت نے لبنان میں اپنے ناقدین پر بم حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔یادرہے کہ شامی فوج 1976ء سے 2005ء تک لبنان میں تعینات رہی تھی اور رفیق حریری کی بم دھماکے میں ہلاکت کے بعد شام عالمی دباؤ پر لبنان سے اپنی فوج کو واپس بلانے پر مجبور ہوگیا تھا۔