.

سوشل میڈیا سے اخوان سے یکجہتی کی علامت "رابعہ" غائب ہونا شروع

جماعت کی حامیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں فوج کی نگرانی میں قائم عبوری حکومت کے ہاتھوں زیرعتاب مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دیے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر جماعت کی حمایت کی علامت سمجھے جانے والے چار انگلیوں والے نشان "رابعہ" غائب ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

"رابعہ" کا نشان 14 اگست کو مصری شہر النصر کے رابعہ العدویہ گراؤنڈ میں اخوان کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد بڑے پیمانے پر سوشل میڈیا پر مشہور ہوا تھا۔

گذشتہ روز فنی تصنیفات کے امور کے سابق ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل اسامہ الشرابی نے"الحیاۃ" ٹی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اخوان کو دہشت گرد تنظیم قرار دیے جانے کے بعد اس کی حمایت میں سوشل میڈیا پر کسی خاص علامت کے اظہار پر سختی سے پابندی عائد ہو گی۔ حکومت کے وضع کردہ قانون کے آرٹیکل 86 کے تحت مصر کے اندر کوئی شخص اخوان المسلمون کی حمایت میں چار انگلیوں پر مبنی "رابعہ" کا نشان بطور فائل فوٹو استعمال نہیں کر سکے گا۔ ایسا کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

مصر کی جامعہ بنی سویف میں قانون کے پروفیسر ڈاکٹر عاشور عبدالجواد نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 86 ان عناصر کے خلاف ایک واضح پیغام ہے جو "رابعہ" جیسی علامتوں کو طاقت کے ذریعے مسلط کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر اس علامت کا قومی املاک اور شہریوں کو نقصان نہ پہنچے تو اس پر پابندی کی ضرورت نہیں۔ مزید یہ کہ یہ ضروری نہیں کہ "رابعہ" کی علامت استعمال کرنے والا ہر سماجی کارکن اخوان کا رکن ہے بلکہ یہ جماعت سے ہمدردی کی ایک علامت سمجھی جاتی ہے۔

ڈاکٹرعبدالجواد نے ملک میں سیاست کے نام پرفرقہ واریت اور افراتفری کو فروغ دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جامعات اور تعلیمی اداروں کے نظام میں خلل ڈالنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔