.

اسرائیل یہودی آبادکاروں کے لیے 1800 نئے مکانات تعمیر کرے گا

مقبوضہ القدس میں 1076 اور غرب اردن میں 801 نئے مکانوں کی تعمیر کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل مقبوضہ بیت المقدس اور دریائے اردن کے مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے لیے اٹھارہ سو سے زیادہ نَئے مکانات تعمیر کرے گا۔

اسرائیل کی یہودی آبادکاری مخالف تنظیم''اب امن'' کے ترجمان لائرآمہائی نے جمعہ کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ ''اسرائیلی وزارت تعمیرات نے آج مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں 1076 اور غرب اردن میں 801 نئے مکانوں کی تعمیر کا اعلان کیا ہے''۔

ان کے بہ قول:''ان میں سے بیشتر مکانات مغربی کنارے میں پہلے سے موجود یہودی بستیوں عفرات اور ایریل اور مشرقی القدس میں رامات شلومو،راموت اور پسگاٹ زیف میں تعمیر کیے جائیں گے''۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزارت نے فوری طور یہودی آبادکاروں کے لیے نئے مکانوں کی تعمیر کے اس منصوبے کی تصدیق نہیں کی لیکن اس منصوبے کا اعلان دسمبر میں طویل عرصے سے قید 26 فلسطینیوں کی رہائی کے بعد متوقع تھا۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے جولائی 2013ء میں فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ امریکا کی ثالثی میں امن مذاکرات کی بحالی کے بعد سے جب بھی فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا ہے تو تھوڑی کے بعد اس اقدام کے بدلے میں فلسطینی سرزمین پر یہودی آبادکاروں کے لیے نئے مکانوں کی تعمیر کا اعلان کیا ہے۔

درایں اثناء فلسطین کے اعلیٰ مذاکرات کار صائب عریقات نے اسرائیل کے یہودی آبادکاری کے نئے منصوبے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ''یہ دراصل امریکی وزیرخارجہ جان کیری کے لیے اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ اپنے امن عمل کو آگے نہ بڑھائیں''۔

انھوں نے کہا کہ یہ منصوبہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کا جان کیری کے لیے پیغام ہے کہ ''وہ اسرائیلی،فلسطینی مذاکرات کے سلسلہ میں دوبارہ اس خطے میں نہ آئیں''۔

ان کا کہنا تھا کہ جب بھی جان کیری خطے کے دورے پر آئے اور انھوں نے امن مذاکرات کے لیے اپنی کوششیں تیز کی ہیں تو نیتن یاہو نے امن عمل کو تباہ کرنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کردی ہیں۔نیتن یاہو نے تنازعے کے دوریاستی کو تباہ کرنے کا عزم کررکھا ہے۔

اسرائیل کی جانب سے نئی یہودی بستیوں کی تعمیر کا اعلان امریکی وزیرخارجہ کے حالیہ دورہ مشرق وسطیٰ کے بعد کیا گیا ہے۔انتہا پسند صہیونی وزیراعظم حال ہی میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر جاری رکھنے کا اعلان کرچکے ہیں اور انھوں نے اس انتباہ کو نظرانداز کردیا ہے کہ یہودی آباد کاری کے جاری رہنے کی صورت میں فلسطینیوں کے ساتھ امن مذاکرات ختم ہوسکتے ہیں۔

ان کی حکومت نے ایک جانب تو امریکا کی ثالثی میں فلسطینیوں کے ساتھ مذاکرات شروع کررکھے ہیں،دوسری جانب فلسطینیوں کی سرزمین ہتھیانے کی پالیسی پر بھی عمل پیرا ہے اور وہ اس ضمن میں امریکا یا کسی اورملک کے دباؤ کو ہرگز بھی خاطر میں نہیں لارہی ہے۔

اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان گذشتہ سال جولائی میں تین سال کے بعد امریکا کی ثالثی میں امن مذاکرات بحال ہوئے تھے لیکن اب تک ان میں کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر جاری رکھنے پر اصرار ہے۔