جنیوا ٹو میں شرکت کا فیصلہ، شامی اپوزیشن اتحاد میں دراڑ
بڑے دھڑے شامی قومی کونسل نے علیحدگی اختیار کر لی
شامی اپوزیشن اتحاد کے جنیواٹو میں شرکت کے فیصلے کے بعد شامی اپوزیش اتحاد میں شامل ایک بڑے دھڑے شامی قومی کونسل نےاپنا راستہ جدا کر لیا ہے۔
شامی قومی کونسل اپوزیشن اتحاد میں سب سے بڑا گروپ ہے جو بشاررجیم کے خلاف زیادہ سخت موقف رکھتا ہے اور بدھ کے روز سے شروع ہونے والی جنیواٹو میں بشارالاسد کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں ہے۔
شامی قومی کونسل جس نے پچھلے ماہ ہی مذاکرات میں حصہ نہ لینے کا اعلان کر دیا تھا۔ شامی قومی کونسل کا کہنا ہے کہ وہ آج بھی اپنے موقف پر قائم ہے اوراس وقت تک مذاکرات میں شرکت کی حمایت نہیں کرے گی جب تک بشارالاسد کو اقتدار سے الگ ہونے پر مجبور نہیں کر دیا جاتا ہے۔
شامی قومی کونسل کی طرف سے اپوزیشن اتحاد سے علیحدگی کا فیصلہ اپوزیشن کی قیادت کو جنیوا ٹو میں شرکت سے باز نہ رکھ سکنے کے بعد کیا گیا ہے۔ واضح رہے شامی اپوزیشن اتحاد میں مجموعی طور پر 120 تنظیمیں شامل ہیں لیکن ہفتے کے روزجنیواٹو میں شرکت کے فیصلے کے موقع پر صرف 75 تنظیمیں موجود تھیں۔
تاہم بعد ازاں شامی اپوزیشن اتحاد نے ایران کے دوسری امن کانفرنس میں شرکت کی صورت میں شرکت کا اپنا فیصلہ واپس لینے کی دھمکی دے دی تھی۔ اب شامی قومی کونسل کے اتحاد سے نکل جانے سے شامی اپوزیشن اتحاد کو دھچکا لگا ہے.
-
شامی اپوزیشن اتحاد کی جنیوا ٹو سے الگ رہنے کی دھمکی
دھمکی کی وجہ بانکی مون کیجانب سے ایران کو دی گئی دعوت بنی ہے
مشرق وسطی -
ایران جنیوا ٹو میں شرکت کا حق نہیں رکھتا: سعودی عرب
شامی اپوزیشن، اور امریکا بھی ایران کی شرکت کیخلاف ہے
مشرق وسطی -
شام میں امن، ایران کو جنیوا ٹو کی دعوت نہیں دی گئی
ایران کی شرکت کا فیصلہ 13 جنوری کو امریکا اور روس کریں گے
بين الاقوامى