بشار رجیم حمص سے بچوں اور خواتین کے انخلاء پر تیار

شامی افواج نے حمص کو طویل عرصہ سے محاصرے میں لے رکھا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اس امر کی امید پیدا ہوگئی ہے کہ شام کی حکومتی افواج زیر محاصرہ شہر حمص سے خواتین اور بچوں کے انخلاء کی اجازت دے دیں گی۔ جنیوا ٹو میں اب تک ہونے والے مذاکرات میں یہ پیش رفت پہلی نظر آنے والی کامیابی ہے۔

شام کیلیے اقوام متحدہ کے نمائندے الاخضر کا نیوز کانفرنس میں کہنا تھا '' ہمیں شامی حکومت کی طرف سے جو بتایا گیا ہے اس کے مطابق شامی حکومت حمص میں محصور خواتین اور بچوں کے نکلنے کا خیر مقدم کرے گی۔'' اقوام متحدہ کے نمائندے نے یہ بات جنیوا میں شامی حکومت اور اپوزیشن کے وفود سے بات چیت کے بعد کہی ہے۔

حمص شہر کے پرانے حصے میں سینکڑوں خاندانوں کو محاصرے کے علاوہ آئے روز کی بمباری کا بھی نشانہ بننا پڑتا ہے اور اشیائَے خوردنی کی فراہمی سے بھی محروم ہیں۔ اس بارے میں شامی حکومت اور اپوزیشن کے ساتھ اقوام متحدہ کے نمائندے نے الگ الگ بات چیت کی، جس کے نتیجے میں بچوں اور عورتوں کو بہ حفاظت نکالنے پر آمادگی سامنے آئی ہے۔

براہیمی کا اس سلسلے میں کہنا تھا '' جیسا کہ آپ جانتے ہیں حمص کے مرکزی علاقے کا محاصرہ کتنا پرانا اور طویل عرصے سے چلا آ رہا ہے، لیکن اب ہم کم از کم سویلینز کا انخلاء کروانے کی طرف بڑھے ہیں۔'' انہوں نے مزید کہا شامی اپوزیشن محاصرے میں لیے گئے ان عام شہریوں کی فہرست دینے پر متفق ہو گئی ہے جو حمص میں محصور ہیں اور انہیں باہر نکنے کی سہولت چاہیے۔''

اقوام متحدہ کے نمائندے نے اس موقع پر جنیوا میں ہونے والے امن مذاکرات کے عمومی لہجے اور ماحول کو بہتر قرار دیا اور یہ بھی بتایا کہ پیر کے روز ان کے فریقین کے ساتھ مشترکہ مذاکرات متوقع ہیں، ان کا کہنا تھا '' میں اس بات پر خوش ہوں ۔ دونوں طرف بالعموم باہمی احترام کا انداز ہے اور اس امر کی اہمیت کا اندازہ ہے کہ امن کوشش کو جاری رہنا چاہیے۔''

واضح رہے پیر کے روز بات چیت میں اپوزیشن عبوری حکومت کی تشکیل کا ایجنڈا زیر بحث لانا چاہتی ہے۔ الاخضر براہیمی کا کہنا تھا '' شام جس کھائی میں گرا ہوا ہے اس سے نکلنے میں وقت لگے گا۔'' عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق حمص پہلا شہر ہے جس نے بشارالاسد کے اقتدار کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ اب ایک بار پھر حکومتی مارٹر گولوں کی زد میں ہے۔

اقوام متحدہ کے نمائندہ برائے شام نے ابھی تک بشارالاسد کے مستقبل کو زیر بحث نہ لا جا سکنے کا دفاع کیا اور کہا '' میرے خیال میں زیادہ تیز چلنے سے قدرے سست چلنا زیادہ بہتر ہے، کیونکہ تیز دوڑنے کی صورت میں ممکن ہے آپ ایک گھنٹہ پا لیں مگر ایک ہفتہ کھو دیں۔''

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں