.

محمودعباس پانچ سال میں اسرائیلی انخلاء کے حامی

غرب اردن میں سکیورٹی مہیا کرنے کے لیے نیٹو فورس تعینات کرنے کی شرط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی صدر محمود عباس نے مقبوضہ مغربی کنارے سے اسرائیل کے پانچ سال میں انخلاء کی حمایت کا اظہار کیا ہے لیکن اس کے لیے یہ شرط عاید کی ہے کہ علاقے میں سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے نیٹو فورس تعینات کی جائے۔

نیویارک ٹائمز میں اتوار کو شائع شدہ ایک انَٹرویو میں فلسطینی صدر نے غرب اردن سے اسرائیل کے انخلاء کے لیے اپنی ایک سابقہ شرط پر نظرثانی کی ہے۔اس سے پہلے وہ مستقبل میں صہیونی ریاست کے ساتھ کوئی امن معاہدہ طے پانے کی صورت میں تین سال میں اسرائیل کے انخلاء کا مطالبہ کرچکے ہیں لیکن اب انھوں نے یہ مدت بڑھا کر پانچ سال کردی ہے۔

محمود عباس نے کہا کہ ''پانچ کے بعد میرا ملک قبضے سے پاک ہوگا''۔البتہ ان کا کہنا ہے کہ اس عرصے کے دوران معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کی فورس تعینات کی جانی چاہیے اور وہ سرحد پار سکیورٹی اور انسداد دہشت گردی کے لیے فرائض انجام دے''۔

انھوں نے کہا کہ ''مشرقی سرحدوں کے ساتھ مغربی سرحدوں پر بھی نیٹو فورس تعینات کی جاسکتی ہے''۔ان کا کہنا تھا کہ تیسرا فریق یہاں اسرائیلیوں کو یقین دہانی اور ہمیں تحفظ فراہم کرنے کے لیے تعینات رہ سکتاہے ۔ان کا کہنا تھا کہ حتمی معاہدے کے تحت مجوزہ فلسطینی ریاست کی کوئی فوج نہیں ہوگی اور صرف پولیس فورس ہوگی۔

صدر عباس نے گذشتہ ہفتے ہی ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اسرائیل مشرق وسطیٰ میں قیام امن کا کوئی بھی حتمی معاہدہ طے پانے کے بعد تین سال میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو خالی کرسکتا ہے۔انھوں نے کہا کہ ''جولوگ دس سے پندرہ سال کے درمیان انخلاء کی تجویز پیش کررہے ہیں،وہ دراصل انخلاء چاہتے ہی نہیں ہیں''۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم فلسطینی علاقوں سے انخلاء کے لیے اسرائیل کو ایک مناسب وقت دینے کو تیار ہیں لیکن یہ وقت تین سال سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔اسرائیل بتدریج اس عرصے میں انخلاء کرسکتا ہے''۔

محمود عباس کے یہ انٹرویوز ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امریکا کی ثالثی میں امن مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور فریقین میں سکیورٹی انتظامات کے حوالے سے اختلافات پائے جاتے ہیں۔امریکا نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن معاہدے کے لیے اپریل کی ڈیڈلائن مقرر کی تھی لیکن تب تک ان کے درمیان مشرق وسطیٰ کے دیرینہ تنازعے کو طے کرنے کے لیے تمام اختلافی امور پر اتفاق رائے مشکل نظر آرہا ہے۔

اسرائیل مغربی کنارے کی اردن کے ساتھ واقع وادی اردن میں اپنی فوجی موجودگی کو برقرار رکھنے پر اصرار کررہا ہے جبکہ فلسطینی اسرائیلی فوج کے مکمل انخلاء پر اصرار کررہے ہیں تاکہ علاقے میں بین الاقوامی فورسز کو تعینات کیا جاسکے۔

صدر محمود عباس نے اپنے انٹرویو میں اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ'' ہمیں اسرائیلی انخلاء کے بعد یا اس کے دوران کسی تیسرے فریق کی موجودگی سے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا تاکہ ہمیں اور اسرائیلیوں کو یہ یقین دہانی کرائی جاسکے کہ انخلاء کا عمل مکمل کیا جائے گا''۔

انھوں نے فلسطینیوں کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ تنازعے کا دو ریاستی حل 1967ء کی جنگ سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ہونا چاہیے اور فلسطینی ریاست کا دارالحکومت مقبوضہ مشرقی القدس ہوگا جبکہ اسرائیل مقبوضہ القدس کو اپنا دائمی دارالحکومت دیتا چلا آرہا ہے۔اس نے اس مقدس شہر پر 1967ء کی جنگ میں قبضہ کیا تھا اور بعد میں اس کو صہیونی ریاست میں ضم کر لیا تھا۔

لیکن عالمی برادری نے اس قبضے کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔اسرائیل نے مغربی کنارے میں فلسطینی سرزمین پر یہودی آبادکاروں کے لیے بستیوں کی تعمیر بھی جاری رکھی ہوئی ہے لیکن عالمی برادری یہودی بستیوں کی تعمیر کو بھی غیر قانونی قراردیتی ہے۔