.

القاعدہ رہنما ابو انس اللیبی کی گرفتاری کی ویڈیو منظر عام پر آ گئی

سی آئی اے، ایف بی آئی اور امریکی فوج نے مشترکہ آپریشن میں گرفتار کیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پچھلے سال ماہ اکتوبر میں لیبیا کے دارالحکومت طرابلس سے گرفتار کیے گئے القاعدہ کمانڈر ابو انس اللیبی کی گرفتاری سے متعلق ویڈیو ٹیپ منظر عام پر آ گئی ہے۔ یہ ویڈیو ممتاز امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے جاری کی ہے۔

ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ایک سفید رنگ کی بڑی گاڑی پیچھا کرتی ہوئی ابو انس اللیبی کی طرابلس میں رہائشگاہ پر طلوع آفتاب کے بعد پہنچی اور اس کی گاڑی کے ساتھ جا لگی۔ گاڑی سے تین بندوق بردار افراد کود کر اترتے ہیں جبکہ ایک دوسری کار نے اللیبی کے فرار کا راستہ بند کر دیا۔

تب ان تین مسلح افراد نے اللیبی کو بڑی گاڑی چلانے سے پہلے اس میں پھینکا اور پھر گاڑی بھگا کر لے گئے۔ ابو انس اللیبی امریکا کو 13 برسوں سے مطلوب تھا ۔ ابو انس اللیبی کو اسامہ بن لادن کے قریبی ساتھیوں میں سمجھا جاتا تھا۔

اللیبی مبینہ طور پر1998 میں مشرقی افریقہ میں قائم امریکی سفارت خانوں پر حملوں میں ملوث تھا اللیبی کو سی آئی اے ، ایف بی آئی اور امریکی فوج کے مشترکہ آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔

شروع میں اللیبی کو لیبیا کے فوجی بیس میں رکھا گیا، بعد ازاں اسے امریکی بیڑے پر منتقل کر دیا گیا۔ وہ آجکل نیو یارک میں مقدمے کا سامنا کر رہا ہے۔

ابو انس کے وکیل برنارڈ کلے مین ک کہنا ہے کہ اللیبی نے کبھی بھی اسامہ بن لادن کی وفاداری یا اطاعت کا حلف نہیں اٹھایا تھا۔ اس لیے وہ 1998 کے سفارتی حملوں میں براہ راست یا بالواسطہ کسی بھی طرح ملوث نہیں ہے۔

اللیبی کے وکیل کو پختہ یقین ہے کہ یہ بات عدالت میں ثابت کی جا سکے گی۔ اللیبی کے وکیل نے اکتوبر میں اس کی گرفتاری کے فوری بعد ہی اخبار میں اس یقین کا اظہار کر دیا تھا۔

ابو انس کے وکیل کا موقف ہے کہ اس کے موکل کا ایک ہی ہدف تھا کہ معمر قذافی کے آمریت کا خاتمہ کر سکے