جنیوا ٹو: دوسرے سیشن میں پیش رفت ممکن نہیں ہوئی: براہیمی
فریقین کے درمیان عدم اتفاق پر اتفاق کا ماحول ہے
شامی حکومت اور اپوزیشن اتحاد کے درمیان جنیوا ٹو کے سلسلے میں مذاکرات کے دوسرے سیشن میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو پا رہی ہے۔ یہ بات شام کیلیے اقوام متحدہ کے نمائندے الاخضر براہیمی نے کہی ہے ۔
براہیمی دس فروری سے شروع ہونے والے دوسرے سیشن سے متعلق شامی حکومت اور اپوزیشن کے نمائندوں کے درمیان آمنے سامنے ہونے والے مذاکرات کے بعد اپنا تجزیہ سامنے لاتے ہوئے نیوز کانفرنس کر رہے تھے۔
ان کے الفاظ تھے '' ہم مذاکرات میں قابل ذکر پیش رفت نہیں کر رہے ہیں، مذاکرات کا دوسرا سیشن بھی اسی طرح محنت اور دقت طلب ہے جس طر ح پہلا سیشن تھا۔ ''
واضح رہے ان مذاکرات کا مقصد تین سال سے جاری شام کی خانہ جنگی کا خاتمہ ہے تاکہ شام ایک مرتبہ پھر سے امن اور جمہوریت کے راستے پر آ جائے۔
شام کے نائب وزیر خارجہ فیصل موقداد نے منگل کو ایک ضائع شدہ دن قرار دیا اور کہا '' اپوزیشن شام میں غیر ملکی دہشت گردی سے جانتے بوجھتے انکار کر رہی ہے۔''
عالمی خبر رساں ادراے رائٹر کے مطابق شامی اپوزیشن کے ترجمان لویا صفی نے بھی کسی پیش رفت کی تصدیق نہیں کی ہے۔ ترجمان کے مطابق '' شامی رجیم لیت و لعل سے کام لے رہی ہے اور ابھی تک مسئلے کے فوجی حل پر زور دیتی ہے۔
اس کے مقابلے میں اپوزیشن اتحاد شام میں عبوری انتظامیہ کی تشکیل کی حامی ہے، جس میں بشار الاسد اور اس کی رجیم کا کوئی کردار نہ ہو۔ لیکن دونوں فرقوں کے درمیان ابھی تک صرف عدم اتفاق پر اتفاق کا ماحول ہے۔
-
جنیوا ٹو، دس دن بعد آج سے پھر شروع ہو گی
شامی اپوزیشن کی ترجیح بشار الاسد کی حکومت سے علیحدگی ہو گی
مشرق وسطی -
جنیوا ٹو، سات دن میں حمص کیلیے خوراک کا فیصلہ نہ ہو سکا
بہت زیادہ مایوسی ہوئی ہے: براہیمی، مزید مذاکرات کیلیے آج وقفے کا امکان
مشرق وسطی -
جنیوا ٹو: ایران کی عدم شرکت جوہری معاہدے کو متاثر نہیں کریگی: امریکا
دونوں معاملات کو الگ الگ سمجھتے ہیں، ایران بھی الگ سمجھتا ہو گا: میری حرف
مشرق وسطی