.

مصری آرمی چیف عبدالفتاح السیسی روس کے دورے پر روانہ

روسی قیادت سے دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر بات چیت کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی مسلح افواج کے سربراہ عبدالفتاح السیسی روس کے دو روزہ دورے پر روانہ ہوگئے ہیں۔وہ روسی قیادت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر بات چیت کریں گے۔

وزیرخارجہ نبیل فہمی بھی ان کے ہمراہ روس گئے ہیں۔مصری فوج کے ترجمان کرنل احمد علی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیردفاع فیلڈ مارشل سیسی روسی ہم منصب سے دوطرفہ عسکری وسیاسی تعلقات مضبوط بنانے پر بات چیت کریں گے۔

واضح رہے کہ روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف اور وزیردفاع سرگئی شوئگو نے نومبر میں مصر کا تاریخی دورہ کیا تھا اور اپنے مصری ہم منصبوں سے اسلحے کی فروخت کے علاوہ سیاسی اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا تھا۔مصری وزارت خارجہ کے ترجمان بدرعبدالعاطی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فیلڈ مارشل سیسی اور وزیرخارجہ نبیل فہمی اپنے روسی ہم منصبوں کے دورے کے جواب میں اب ماسکو کا دورہ کر رہے ہیں۔

روسی وزراء نے ایسے وقت میں قاہرہ کا دورہ کیا تھا جب مصر کے اپنے قدیم اتحادی ملک امریکا کے ساتھ تعلقات میں رخنہ آگیا تھا اور امریکا نے مصر کو کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے تحت دی جانے والی سالانہ ایک ارب تیس کروڑ ڈالرز کی فوجی امداد بھی روک لی تھی۔

یادرہے کہ مصر کے 1970ء کے عشرے تک سوویت روس کے ساتھ قریبی دوستانہ تعلقات استوار رہے تھے لیکن سابق مصری صدر انورالسادات نے 1979ء میں امریکا کی ثالثی میں اسرائیل کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ امن معاہدے پر دستخط کردیے تھے جس کے بعد سوویت روس اور مصر کے دوطرفہ تعلقات میں سردمہری آگئی تھی۔

لیکن مصری فوج کے سربراہ کے ہاتھوں منتخب جمہوری صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی 3 جولائی 2013ء کو برطرفی کے بعد اب امریکا اور مصر کے تعلقات میں سردمہری آئی ہے اور اس کے بعد مصر نے اپنا رُخ روس کی جانب پھیر لیا ہے۔

فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی آیندہ صدارتی انتخاب میں حصہ لیں گے۔وہ فوجی وردی میں یا اس کے بغیر یہ انتخاب لڑیں،ان کے بارے میں توقع یہی ہے کہ وہ بآسانی ملک کے صدر منتخب ہوجائیں گے۔59 سالہ سیسی نے کویتی اخبار السیاسیہ کے ساتھ گذشتہ ہفتے ایک طویل انٹرویو میں کہا تھا کہ ''وہ آیندہ صدارتی انتخاب میں امیدوار ہوں گے کیونکہ ان کے پاس مصری عوام کی خواہشات پر پورا اترنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے''۔