.

یورپی پارلیمنٹ کا صدر، اسرائیلی لعن طعن کی زد میں

وجہ فلسطینی عوام کو پانی کم دینے کے بارے میں استفسار بنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی پارلیمنٹ کے صدر کو اسرائیل میں سخت لعن طعن کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ غم و غصے کی وجہ اسرائیلی پارلیمنٹ میں یورپی رہنما کا فلسطینیوں کے ساتھ پانی کے معاملے میں بھی غیرمنصفانہ اسرائیلی رویے پر کچھ بولنا نہیں کچھ پوچھنا تھا۔

ان استفسارات کا اسرائیلی پارلیمنٹ یا حکومت کی جانب سے جواب دیے جانے کے بجائے یورپی پارلیمنٹ کے صدر کو اسرائیلی اراکین پارلیمنٹ کی طرف سے '' تم پر لعنت ، تم پر لعنت '' کے آوازے سننا پڑے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بھی '' معزز مہمان '' کے رویے کو سرعام تنقید کا نشانہ بنا ڈالا لیکن کسی جانب سے یہ جواب نہ آیا کہ اسراِئیل یہودیوں کے مقابلے میں فلسطینوں کو استعمال کیلیے پانی چار گنا کم کیوں دیتا ہے؟

تفصیلات کے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران یورپی پارلیمنٹ کے صدر مارٹن شلز کو اس وقت سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے فلسطینی نوجوانوں کی طرف سے کی گئی محض ایک شکایت پر اسرائیلی حکام اور اراکین پارلیمنٹ سے استفسار کیا۔

یورپی رہنما کا کہنا تھا فلسطینی نوجوانوں نے انہیں بتایا ہے کہ'' فلسطینیوں کو یہودیوں کے مقابلے میں چار گنا کم پانی دیا جاتا ہے۔ '' مارٹن شلز نے کہا میں نے اس بارے میں اعداد و شمار چیک نہیں کیے لیکن آپ سے جاننا چاہتا ہوں کہ آیا فلسطینیوں کی یہ شکایت درست ہے؟

جوابا ''جیوش ہوم پارٹی '' کے ارکان نے اس شکایت کے غلط یا درست ہونے کے بارے میں کچھ کہنے کے بجائے با آواز بلند کہنا شروع کر دیا '' تم پر لعنت ہو، تم پر لعنت ہو۔''

کچھ منٹ کی تاخیر سے بنجمن نیتن یاہو بھی اس ہنگامے میں شامل ہو گئے۔ اب مارٹن شلز کی تقریر ختم ہو چکی تھی۔ یاہو نے کہا '' مارٹن شلز نے کہا ہے کہ فلسطینیوں نے اسرائیل کا فراہم کردہ ڈیٹا دیا ہے تاہم خود انہوں نے اسے چیک نہیں کیا ہے لیکن اس کے باوجود وہ اس بات کو دہراتے سے باز نہیں آئے ہیں۔''

نیتن یاہو کے بقول ''یہ رویہ اسی عمومی انداز کا مظہر ہے جو اسرائیل کو اس کی پالیسیوں کی وجہ سے بغیر چیک کیے کہ آیا یہ غلط ہے یا درست نشانہ بنانے کیلیے اختیار کیا جاتا ہے۔ ''

واضح رہے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے زیر استعمال آنے والے پانی اور یہودی بستیوں میں اسرائیلیوں کو دستیاب ہونے والے پانی کے بارے میں 2012 میں اقوام متحدہ کی رپورٹ نے اس سے بھی زیادہ سنگین صورتحال کی نشاندہی کی تھی جس کا اظہار یورپی پارلیمنٹ کے صدر نے کیا ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی عوام کلیے پانی کی دستیابی چھ گنا کم ہے۔ جبکہ اسرائیل کے انسانی حقوق سے متعلق اپنے ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ فرق تین سے ساڑھے تین گنا ہے۔

نیتن یاہو نے یورپی پارلیمنٹ کے صدر کے ایران سے متعلق خیالات کو بھی توازن سے ہٹے ہوئے قرار دیا اور اس پر سخت ناراضی ظاہر کی۔

واضح رہے رواں ماہ کے دوران دو بڑے یورپی بنکوں نے تین اسرائیلی بنکوں کے ساتھ بزنس کرنے سے بھی انکار کیا ہے۔ وجہ اسرائیل کی قابضانہ سوچ اور عالمی قوانین کی خلاف ورزیاں ہیں۔