شام میں نسل کشی عالمی برادری کی ناکامی ہے، بان کی مون
بیس برس پہلے روانڈا میں اس صورتحال کا سامنا تھا
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ بیس سال پہلے روانڈا میں ہونے والے انسانی قتل عام کے بعد شام میں شہریوں کا قتل عام ہماری اجتماعی ناکامی اور ایک شرمناک فرد جرم عاید ہے۔ انہوں نے یہ بات روانڈا میں ہونے والی نسل کشی کو بیس ہونے کے حوالے سے ایک تقریب کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا ہے۔
سیکرٹری جنرل نے اس حوالے سے کہا '' یہ ہماری اجتماعی ناکامی ہے کہ ہم شام میں مظالم نہیں روک سکے ہیں، اس لیے گزشتہ تین برسوں سے شام میں جاری قتل و غارت گری عالمی برادری کیلیے فرد جرم کی حیثیت رکھتی ہے۔
واضح رہے روانڈا میں بیس سال قبل خونریزی اس وقت شروع ہوئی تھی جب چھ اپریل 1994 میں روانڈا کے صدر کے طیارے کو دارالحکومت کی طرف پرواز کرتے ہوئے پراسرار طور پر نشانہ بنایا گیا تھا۔
سیکرٹری جنرل نے مغربی ممالک میں مسلمان تارکین وطن اور روما کمیونٹی کے خلاف ابھرنے والی نفرت کا بھی حوالہ دیا اور کہا روانڈا میں نسل کشی ایک رزمیہ ناکامی تھی کہ عالمی برادری مظالم کی صورت میں ہونے والی جنگ کو نہ روک سکی۔
انہوں نے کہا '' ہم پہلے کے مقابلے میں زیادہ گہرائی سے جانتے ہیں کہ نسل کشی کوئی اکیلا واقعہ نہیں ہوتا بلکہ ایک طویل عرصے پر پھیلے عمل کا نتیجہ ہوتا ہے، اسے سیاسی عزم اور حوصلے کے ساتھ روک جا سکتا ہے۔''
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا '' شام میں اب تک ایک لاکھ چالیس ہزار لوگ ظلم کا شکار ہو کر اپنی زندگی سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ روانڈا میں بھی اسی طرح آٹھ لاکھ شہری نسل کشی کا نشانہ بنے تھے۔''
-
شام مہاجرین برآمد کرنے میں سب سے آگے ہے، بان کی مون
متاثرہ عوام کی مدد کیلیے معاہدہ حکومت و اپوزیشن کی ذمہ داری ہے
بين الاقوامى -
امریکی انسانی حقوق رپورٹ : خلاف ورزیوں میں شام سب سے آگے
مصر، یوکرائن اور بنگلہ دیش میں ہونے والی ہلاکتوں کی بھی مذمت
بين الاقوامى -
شامی فوج اور حزب اللہ کے حملے میں 175 باغی ہلاک
شام کے دارالحکومت دمشق کے نواح میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج اور اس کی اتحادی ...
مشرق وسطی