.

اسرائیل غزہ کے ساتھ کشیدگی ختم کرے، محمود عباس

نومبر 2012 کے بعد اسرائیل اور غزہ کے درمیان بد ترین کشیدگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے اسرائیل سے غزہ پر جاری بمباری اور کشیدگی ختم کرنے کیلیے کہا ہے۔ یہ بات اتھارٹی کے ترجمان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہی ہے۔ اسرائیل ان دنوں غزہ پر بمباری کر رہا ہے اور جواز یہ پیش کر رہا ہے کہ غزہ سے عسکریت پسند جنوبی اسرائیل پر راکٹ برساتے ہیں۔

فلسطینی صدر نے مطالبہ کیا کہ '' محاصرہ زدہ غزہ کی پٹی پر کشیدگی بند کی جائے۔'' دوسری جانب اسرائیل کے فوجی ترجمان نے کہا ہے کہ '' جمعرات کے روز عسکریت پسندوں نے پانچ راکٹ چلائے ہیں تاہم صرف ایک راکٹ اسرائیلی علاقے میں جا کر لگا ہے اور اس سے کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔

اس سے پہلے ایک فوٹو جرنلسٹ نے بتایا ہے کہ غزہ سے متصل اسرائیلی سرحد پر جمعرات کی صبح خاموشی تھی۔ جبکہ اسرائیلی فوجی ترجمان نے مزید کہا '' بدھ کے روز سے شروع ہونے والی کشیدگی کے دوران ساٹھ سے زاید راکٹ فائر کیے گئے ہیں۔ ان میں سے پانچ راکٹ آبادی والے علاقوں میں گرے ہیں۔''اسرائیلی فوجی طیاروں نے اس دوران 29 اہداف کو نشانہ بنایا۔ اسرائیل کے مطابق بمباری سے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ واضح رہے یہ اسرائیلی بمباری بدھ کے روز شروع ہوئی تھی۔ اسلامی جہاد موومنٹ نے بدھ کی شام دعوی کیا ہے کہ اس نے اسرائیلی بمباری کے رد عمل میں 90 راکٹ فائر کیے تھے۔ جبکہ جمعرات کی صبح مارٹر گولوں کی فائرنگ سے تین فلسطینی شہید ہو گئے ہیں۔

عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ نومبر 2012 کے بعد یہ شدید ترین بمباری اور راکٹ باری ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اسرائیل پر راکٹ فائر کرنے کی مذمت کی ہے۔