کویتی پارلیمنٹرینز کا ایران، عراق کو جی سی سی میں شامل کرنے کا مطالبہ

سعودی عرب، ایران قربت عالم اسلام کے مسائل کے حل کا ذریعہ بنے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

کویت کی مجلس اُمہ [پارلیمنٹ] کے کئی سرکردہ ارکان نے ایران، عراق اور یمن کو بھی خلیج تعاون کونسل [جی سی سی] میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان ملکوں کو جی سی سی میں شامل کرنے کا مطالبہ کرنے والے ارکان کا کہنا ہے کہ اگر تہران، بغداد اور صنعاء بھی خلیج تعاون کونسل میں شامل ہو جاتے ہیں تو اس کے نتیجے میں عرب دنیا اور عالم اسلام کے کئی بڑے بڑے مسائل حل ہو جائیں گے۔

کویتی رُکن پارلیمنٹ عدنان الصمد نے اخبار "الرائے" سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران اور سعودی عرب خلیجی یونین کا حصہ بن جاتے ہیں تو دونوں کے درمیان ناراضگیاں خود بہ خود ختم ہو جائیں گی۔ یوں یہ دونوں بڑے ممالک ایک دوسرے سے الجھنے کے بجائے مل کر عرب ممالک اور مسلم دنیا کے تنازعات کی گھتیاں سلجھا سکتے ہیں۔

ایک دوسرے رُکنِ پارلیمنٹ عبدالحمید دشتی نے کہا کہ اردن اور مصر کے بجائے پہلے عراق، ایران اور یمن کو خلیج تعاون کونسل میں شامل کر لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مصر اور اردن کو بھی کونسل میں شامل کرنے کے خلاف نہیں۔ ہمیں دبئی کے پولیس چیف ضاحی خلفان کی تجویز سے اتفاق ہے مگر میرا خیال ہے کہ ایران اور عراق کی خلیجی کونسل میں شمولیت کی زیادہ اہمیت ہے۔

کویتی ارکان پارلیمان کی جانب سے عراق، ایران اور یمن کو خلیج تعاون کونسل میں شامل کرنے کے مطالبے پر خاتون صحافی اور تجزیہ نگار سوسن الشاعر نے العربیہ نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "ہم ایران کو خلیج تعاون کونسل میں شامل کرنے کے کسی بھی مطالبے کا خیر مقدم نہیں کریں گے۔ ہم ایک مشکل دور سے گذر رہے ہیں۔ بہترہے کہ ہم ایران کی مداخلت اور اس کی بلیک میلنگ سے دور رہیں کیونکہ عرب خطہ اس وقت کئی سنگین مسائل سے گذر رہا ہے۔ ایران جو کچھ کر رہا ہے وہ خلیج تعاون کونسل اور خطے کے لیے نقصان کا باعث ہے۔

سوسن الشاعر کا کہنا تھا کہ ایران "شر" کا دوسرا نام ہے اور ہمیں خود کو ہر طرح کی "شرور" سے محفوظ رکھنا ہوگا۔ خلیج تعاون کونسل کی چھتری تلے یکجا ہونے والے ممالک ایک تاریخ، جغرافیہ اور قومی شناخت رکھتے ہیں۔ خلیجی ملکوں اور مصر و اردن کے درمیان بھی مشترکات موجود ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں