قاہرہ میں اخوانیوں پر قہر، 529 کو سزائے موت

ایک پولیس اہلکار کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام،ٹرائل صرف دو روز جاری رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

مصر کی ایک عدالت نے معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے 529 حامی اخوانی کارکنوں کو سزائے موت سنا دی ہے۔ ان پر ایک پولیس اہلکار کو قتل کرنے کے علاوہ پولیس پر حملوں کا الزام تھا۔

ان تمام مدعاعلیہان کے نام ان 1200 سے زیادہ اخوانی کارکنوں میں شامل ہیں جن کے خلاف ہفتے کے روز سے مقدمہ کی سماعت شروع کی گئی تھی۔ان میں اخوان المسلمون کے مرشد عام محمد بدیع سمیت متعدد دیگر رہنما بھی شامل ہیں۔

واضح رہے مصر کے پہلے منتخب صدر محمد مرسی کی فوجی سربراہ فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں برطرفی کے بعد اخوان المسلمون کے کارکنوں نے قاہرہ میں ایک ماہ سے زیادہ عرصہ تک النہضہ چوک اور جامع مسجد رابعہ العدویہ کے باہر احتجاجی دھرنا دیا تھا جسے مصری سکیورٹی فورسز نے پوری طاقت کے ساتھ کچل دیا تھا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے اس کریک ڈاون میں کم از کم 1400 لو گ ہلاک ہو گئے تھے۔مصر میں بیک وقت اتنے شہریوں کی ہلاکت تو شاید اچنبھے کی بات نہ تھی لیکن ایک ہی وقت میں 529 افراد کو اتنے مختصر ٹرائل کے بعد سزائے موت سنایا جانا تاریخی طور پر ایک منفرد واقعہ ہے اور آج کی جدید دنیا میں شاید ہی دنیا میں کہیں اور اس طرح کی مثال مل سکے۔

ان ملزمان پر الزام تھا کہ انھوں نے 14 اگست 2013 کو قاہرہ میں دھرنا ختم کرانے کے لیے کیے گئے کریک ڈاون کے بعد احتجاج کیا تھا، پولیس کو نشانہ بنایا اور ایک پولیس اہلکار کو ہلاک کر دیا تھا۔ملزمان کے وکلاء کا کہنا ہے کہ '' انھیں اپنے موکلین کی صفائی پیش کرنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا ہے اور مختصر ٹرائل کے بعد فیصلہ سنا دیا گیا ہے۔ ''

اس اہم مقدمے میں 150 ملزمان گرفتار ہیں جبکہ باقی کو عدم موجودگی میں سزائے موت سنائی گئی ہے۔ دوسری جانب چند روز قبل ہی اخوان کے 36 زیر حراست کارکنوں کے قتل کے مقدمے میں ایک پولیس افسر کو دس سال قید کی سزا سنائی گئی تھی اور بعض اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا تھا.

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں