.

عرب لیگ کی شام میں صدارتی انتخاب کے اعلان پر تنقید

مغربی و خلیجی ممالک نے اعلان کو جمہوریت کا مذاق قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب لیگ نے خانہ جنگی کے دوران شام میں صدارتی انتخاب کا اعلان کیے جانے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ محض عالمی برادری کی طرف سے تنازعہ طے کرانے کی کوششوں میں رکاوٹ پیدا کرنے کیلیے ہے۔ واضح رہے بشار رجیم نے 21 اپریل کو اعلان کیا تھا کہ آئندہ صدارتی انتخاب 3 جون کو ہوں گے۔

ادھر قاہرہ میں عرب لیگ کے سربراہ نبیل العربی کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ '' یہ اعلان شامی تنازعے کے سیاسی حل کے واسطے مذاکرات کیلیے ضروری کوششوں کو معطل کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔''

مغربی ممالک اور خلیجی ممالک جو بشار رجیم کے خلاف برسر پیکار باغیوں کی حمایت کرتے ہیں نے بھی شام کے صدارتی انتخاب کے اعلان پر تنقید کی ہے اور بشار رجیم کے اس فیصلے کو جمہوریت کے ساتھ مذاق کا نام دیا ہے۔

اس سے پہلے شام میں امن اور اس کے سیاسی مستقبل کے بارے میں فیصلوں کیلیے جنیوا ٹو کے نام سے ہونے والی امن کانفرنس ماہ فروری میں کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو چکی ہے۔ شام کی تین سالہ خانہ جنگی کے دوران ایک لاکھ پچاس ہزار سے زائد شامی مارے جا چکے ہیں۔ اسی دوران لاکھوں افراد کو پڑوسی ملکوں میں پناہ لینا پڑ چکی ہے۔

شام کے صدر بشارالاسد نے اگرچہ ابھی خود الیکشن میں حصہ لینے یا نہ لینے کا اعلان نہیں کیا ہے لیکن ان کی حکومت میں شامل ذمہ دار لوگ اس سے قبل یہ اشارے دیتے رہے ہیں کہ شارالاسد کے آئندہ بھی حکومت کا حصہ رہیں گے۔